سانحہ کنن پوشپورہ کے خلاف مظفرآبادمیں احتجاجی ریلی کا انعقاد
مظفرآباد:کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں وکشمیر شاخ کے زیر اہتمام سانحہ کنن پوشپورہ کے خلاف مظفرآبادمیں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ریلی میں حریت رہنما ﺅںمشتاق الاسلام اورعبد المجید میر کے علاوہ زیرِاعظم آزاد جموں و کشمیر کے ترجمان جاوید شوکت ،مختلف سیاسی و سماجی شخصیات، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور طلباءو طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ریلی کے شرکاءنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر سانحہ کنن پوشپورہ کے متاثرین کے لیے انصاف، جنگی جرائم کے احتساب اور انسانی حقوق کی پاسداری کے مطالبات درج تھے۔ مظاہرین نے 23 فروری 1991 کی رات کو پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی وقار اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ مقررین نے اپنے خطابات میںکہا کہ سانحہ کنن پوشپورہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا المیہ ہے جس نے کشمیری معاشرے کی اجتماعی یادداشت پر گہرے نقوش ثبت کیے ہیںاور35 برس گزر جانے کے باوجود متاثرہ خاندانوں کو انصاف نہ ملناعالمی ضمیر کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہاکہ انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور شہری آزادیوںپر پابندیوںکے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اورانہیں انسانی حقوق کے بین الاقوامی اصولوں کے منافی قراردیا۔مقررین نے کہاکہ ا نسانی وقار اور بنیادی حقوق کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جسے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ادا کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سانحہ کنن پوشپورہ سمیت اس طرح کے تمام واقعات کی شفاف، غیر جانبدار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ انسانی حقوق کے عالمی ادارے، اقوام متحدہ کے متعلقہ فورمز اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لیں اور حقائق پر مبنی نگرانی کے نظام کو یقینی بنائیں۔





