مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیر میں گلیشیئرپھٹنے اور چٹانوں کے تودے گرنے سے سیلاب کا خطرہ ہے : ماہرین

سرینگر: ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گلیشیائی جھیل کے بغیر بھی گلیشیئرپھٹنے اور چٹانوں کے تودے گرنے سے تباہ کن سیلاب آ سکتے ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بلند پہاڑی علاقوں کی غیر مستحکم ڈھلوانوں کی فوری ارضیاتی نقشہ سازی پر زور دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 26 اگست کو نیپال-تبت سرحد پر آنے والے اچانک سیلاب کو ابتدا میں گلیشیائی جھیل کے پھٹنے کا نتیجہ قرار دیا گیا تھا۔ تاہم سیٹلائٹ تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ بڑے پیمانے پر آنے والا برف اور چٹانوں کا تودہ تھا جو لینڈے کھولا میں داخل ہوا اور ملبے کے تباہ کن سیلاب میں تبدیل ہو گیا۔جموں میں NIH کے ویسٹرن ہمالین ریجنل سینٹر کے سائنس دان ریاض احمد میر نے کہا کہ یہ واقعہ ایسے علاقے میں پیش آیا جہاں مستقل منجمد زمین (Permafrost) نسبتاً گرم اور زیرِ زمین چٹانیں کمزور تھیں۔ انہوں نے کہاکہ اس تودے کے گرنے سے بڑی مقدار میں گلیشیائی برف اورباقی ملبہ اس میں شامل ہو گیا۔ یہ تیزی سے نشیبی علاقے کی طرف بڑھا اور ایک انتہائی تباہ کن ملبے کے سیلاب میں تبدیل ہو گیا۔ رےاض میر نے کہا کہ ہماچل پردیش، جموں کی وادی چناب جس میں کشتواڑ، ڈوڈہ اور رام بن شامل ہیںاور لداخ کو تفصیلی ارضیاتی جائزے کے لیے ترجیح دی جانی چاہیے، جس کے بعد کشمیر کا جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ چناب وادی میں کشتواڑ سب سے اہم خطرے والا علاقہ ہے اور اسے گلیشیئر سے متعلق خطرات اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب دونوں کا زیادہ خطرہ لاحق ہے۔کشمیر یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر غلام جیلانی نے کہا کہ گلیشیئر اور چٹانوں کے تودے گرنے اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب الگ الگ عمل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ برف اور چٹانوں کا تودہ کسی دریا کے راستے میں داخل ہو کر پانی، تلچھٹ اور بڑے پتھروں کو اپنے ساتھ ملا سکتا ہے اور ایک تباہ کن ملبے کے سیلاب میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہ کسی گلیشیائی جھیل سے بھی ٹکرا سکتا ہے اور تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ایک حالیہ تحقیق میں مغربی مقبوضہ جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش کو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہ خطے کے طور پر نشاندہی کی گئی ہے، جہاں 20ویں صدی کے آغاز سے درجہ حرارت میں تقریباً 1 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہو چکا ہے۔ زیادہ اخراج والے منظرناموں کے تحت 2081سے2100 تک موسم سرما کے درجہ حرارت میں 7.18 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔کشمیر یونیورسٹی کی ایک اور تحقیق میں کشمیر کی 155 گلیشیائی جھیلوں کا جائزہ لیا گیا جس میں برم سر، چرسر، نندکول، گنگ بل اور بھگسر کو گلیشائی جھیل پھٹنے کے حوالے سے ”انتہائی زیادہ“ خطرے کا حامل قرار دیا گیا۔ تحقیق کے مطابق ان جھیلوں کے ممکنہ متاثرہ علاقوں میں 2,704 عمارتیں اور 15 بڑے پل شامل ہیں۔ماہرین کاکہنا ہے کہ خطرے کے جائزے کو صرف گلیشیائی جھیلوں کی فہرستوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں گلیشیئرز، چٹانی ڈھلوانیں، مستقل منجمد زمین اور نشیبی دریائی راستے بھی شامل کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے اچانک ڈھلوانی تودے گرنے کے خطرے والے علاقوں میں حقیقی وقت کی نگرانی اور پیشگی انتباہی نظام قائم کرنے پر زور دیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button