مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کے ظالمانہ اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں : ڈی ایف پی
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیری عوام کے بنیادی حقوق، سیاسی آزادیوں، مذہبی آزادی اور حقِ خودارادیت سے مسلسل انکار نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔
ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں کیے گئے اقدامات کو الگ الگ انتظامی فیصلوں کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ زمین، شہریت، املاک، سیاسی سرگرمیوں، مذہبی اداروں، تعلیمی مراکز اور سیاسی قیادت سے متعلق اقدامات کے مجموعی اثرات بنیادی طور پرکشمیری عوام کی سیاسی، سماجی اور معاشی حیثیت کو متاثر کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غیر ریاستی باشندوں کو زمین کی ملکیت، الاٹمنٹ یا دیگر حقوق دینے سے متعلق اقدامات انتہائی تشویشناک ہیں۔ کسی متنازعے خطے کی آبادیاتی اور ملکیتی ساخت کو تبدیل کرنے والے اقدامات بین الاقوامی برادری کی خصوصی نگرانی کا تقاضا کرتے ہیں۔ بین الاقوامی قانون میں مقبوضہ علاقوں کی آبادی کے تحفظ اور قابض طاقت کی اپنی شہری آبادی کو وہاں منتقل کرنے کے حوالے سے واضح اصول موجود ہیں۔ چوتھے جنیوا کنونشن کا آرٹیکل 49(6) قابض طاقت کی اپنی شہری آبادی کے حصے کو مقبوضہ علاقے میں منتقل کرنے سے روکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی زمین اور وسائل کے بارے میں ایسے فیصلے جن میں کشمیری عوام کی رضامندی اور ان کے سیاسی حقوق کو نظر انداز کیا جائے، قابلِ قبول نہیں ہو سکتے۔ترجمان نے کہا کہ کشمیری سیاسی قیادت کی طویل اور مسلسل قید انسانی حقوق کی صورتحال کا ایک انتہائی سنگین پہلو ہے۔ شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، مسرت عالم بٹ، آسیہ اندرابی اور دیگر سیاسی رہنماو¿ں اور کارکنوں کی طویل نظربندی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سیاسی اختلاف اور سیاسی نظریے کو انتظامی اور فوجداری اقدامات کے ذریعے دبانے کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے خاص طورپر شبیر احمد شاہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے کئی عشرے بھارتی جیلوں میں گزارے ہیں۔ ایک مقدمے میں عدالت سے قانونی ریلیف حاصل ہونے کے باوجود دوسرے پرانے مقدمے میں دوبارہ گرفتارکیا جانا قانون کی حکمرانی، منصفانہ سماعت اور عدالتی احکامات کے احترام کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑا کرتا ہے۔ ترجمان نے مطالبہ کیا کہ تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کے مقدمات کا آزاد، شفاف اور غیر جانب دارانہ عدالتی جائزہ لیا جائے اور ایسے تمام افراد کو فوری رہا کیا جائے جن کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ موجود نہیں۔
ترجمان نے محمد یاسین ملک کے تازہ عدالتی معاملے کو بھی انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یاسین ملک نے سرلا بھٹ قتل کیس میں اپنے خلاف الزام سے انکار کرتے ہوئے مقدمے کی مزید پیروی نہ کرنے اور اپنے لیے سزائے موت کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ارشد اقبال نے کہا کہ اس صورتحال کو محض ایک عدالتی کارروائی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک طویل عرصے سے قید سیاسی رہنما کا اپنے لیے موت کی سزا طلب کرنا انسانی حقوق اور منصفانہ عدالتی عمل کے حوالے سے سنگینسوالات پیدا کرتا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ یاسین ملک کو مکمل قانونی دفاع، آزادانہ قانونی معاونت، شفاف سماعت اور تمام بنیادی قانونی حقوق فراہم کیے جائیں۔ترجمان نے کشمیری شہریوں کے گھروں، زمینوں اور دیگر املاک کی ضبطی اور مسماری کے واقعات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ کسی شہری کی سیاسی وابستگی، سیاسی نظریے یا کسی مقدمے میں نامزدگی کی بنیاد پر اس کی جائیداد کو نشانہ بنانا اجتماعی سزا کے مترادف ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ ایسے تمام واقعات کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں اور متاثرین کو مو¿ثر قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے۔
ترجمان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مذہبی تنظیموں، مدارس، اسکولوں اور دیگر سماجی و تعلیمی اداروں پر پابندیوں کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے نے کہا کہ مذہبی آزادی، عبادت اور بچوں کی تعلیم بنیادی انسانی حقوق ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مذہبی آزادی، تعلیمی اداروں اور شہری آزادیوں کی صورتحال کی آزادانہ نگرانی کے لیے مو¿ثر نظام قائم کرے۔ارشد اقبال نے کہا کہ جموں و کشمیر کو محض دہشت گردی یا امن و امان کا مسئلہ قرار دینا تاریخی اور سیاسی حقیقت سے انکار کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جموں و کشمیر کے مسئلے پر متعدد قراردادیں منظور کی ہیں، جن میں قرارداد 47 (1948) ایک بنیادی دستاویز ہے جو جموں و کشمیر کے مستقبل کے تعین کے لیے عوامی رائے سے متعلق ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو نظر انداز کرکے خطے میں پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اقوام متحدہ، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، یورپی یونین، اسلامی تعاون تنظیم ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور جمہوری ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر محض تشویش کے اظہار تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔







