امریکہ کوجموں و کشمیر کی حیثیت پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں: آغا روح اللہ

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کے رہنما اوربھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا روح اللہ مہدی نے امریکی سفیر سرجیو گور پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کو جموں و کشمیر کی حیثیت پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق روح اللہ مہدی نے سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی سفیر کی طرف سے اس وقت کسی قسم کی قانونی حیثیت پر بات کرنے پر سوال اٹھایا جب فلسطین اور ایران میں خونریزی جاری ہے۔انہوں نے کہااگر مجھے امریکی سفیر سے جائز حیثیت حاصل کرنی پڑے تو میں ایسی حیثیت کو دریا میں پھینک دوں گا۔ آج جب فلسطین اور ایران میں خونریزی ہو رہی ہے تو س کا ذمہ دار یہاں آ کر مجھے جائز حیثیت دے گا؟انہوں نے کہاکس کا کیا ہے، یہاں حالات اچھے ہیں یا خراب—مجھے اس کے لیے امریکہ سے جائز حیثیت لینے کی ضرورت کیوں ہے؟آغا روح اللہ امریکی سفیر گور کے 19 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے پر ردعمل دے رہے تھے جس کے دوران امریکی سفیر نے اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو نظر انداز کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو بھارت کا ایک اہم حصہ قرار دیا تھا جس کے بعد ایک سفارتی تنازعہ پیدا ہوا۔مہدی نے کہا کہ امریکہ کو جموں و کشمیر کی حیثیت پر تبصرہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ انہوں نے کہاکون کس کا حصہ ہے اور کون نہیں، یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے؛ امریکہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ یہاں حالات ٹھیک ہیں یا نہیں، یہ بھی امریکہ کا مسئلہ نہیں ہے۔انہوں نے عمر عبداللہ سے امریکی سفیر کی ملاقات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہاکیا آپ نے اپنی قوم کی جانب سے ان سے پوچھا کہ وہ اور ان کا اتحادی اسرائیل فلسطین، غزہ، ایران، یمن اور لبنان میں قتل و غارت کیوں کر رہے ہیں؟ اگر آپ نے یہ سوال نہیں اٹھایا تو کیا کم از کم امریکی سفیر کے سامنے ان کی جانب سے کی جانے والی خونریزی کے خلاف احتجاجی مراسلہ پیش کیا؟“رکنِ پارلیمنٹ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام ’انہیں اس خونریزی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔مہدی نے نیشنل کانفرنس کی قیادت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کے سیاسی حقوق کی جدوجہد کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دفعہ 370 ، بنیادی حقوق اور ضمانتوں کے بجائے اب وہ صرف ریاستی حیثیت اور حتیٰ کہ کاروباری قواعد تک محدود ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انہیں عوام کی جانب سے حقوق کی بحالی کے لیے جدوجہد کرنے کا مینڈیٹ ملا ہے، نہ کہ صرف ریاستی حیثیت کا مطالبہ کرنے کے لیے۔انہوں نے کہااگر پارٹی چاہتی ہے کہ میں استعفیٰ دوں تو اسے مجھے شوکاز نوٹس بھیجنا چاہیے۔





