برکس اجلاس کے موقع پر میرواعظ عمرفارو ق کی ایرانی صدر، وزیرخارجہ سے ملاقات
جنگوں کے خاتمے،انصاف کی فراہمی ، مذاکرات اور سفارت کاری پر زور
نئی دہلی:کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق نے جنگوں کے خاتمے اور مذاکرات اور سفارت کاری پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف کے بغیر امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔
میرواعظ نے یہ باتیںنئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے تنازعہ کشمیر کا نام لیے بغیر کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال تنازعات کے پرامن حل پر ازسرنو توجہ مرکوز کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔غزہ، کشمیر اور دیگر مقامات پر قابض افواج کی جانب سے جاری جارحیت کے حوالے سے میرواعظ نے کہا کہ سب سے اہم پیغام امن کا ہونا چاہیے۔ امن صرف اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب انصاف ہو۔ایران سے متعلق تنازعے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک میں جوکچھ بھی ہورہا ہے،بالکل غلط ہے،انہوں نے فلسطین اور لبنان میں موجودہ صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہاہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ دور جنگ کا نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری کا دور ہے اور انسانی اقدار پر یقین رکھنے والوں کو جنگوں کے خاتمے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔
میرواعظ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر کشمیری علما آغا سید حسن الموسوی الصفوی اور عمران رضا انصاری بھی موجود تھے۔ میرواعظ نے وزیر خارجہ کو لکڑی سے تیار کردہ ایک یادگاری تحفہ پیش کیا جس پر تاریخی جامع مسجد سرینگر کی منظرکشی کی گئی ہے۔میرواعظ نے مناب میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی یاد میں منعقدہ ایک نمائش میں بھی شرکت کی۔یہ ملاقاتیں اس لیے اہمیت کی حامل ہیں کہ یہ پیش رفت 2019 میں دفعہ370 کی منسوخی اور میرواعظ کی چار سالہ نظر بندی کے بعد سامنے آئی ہے جبکہ بھارتی حکومت نے مارچ 2025 میں کالے قانون یو اے پی اے کے تحت ان کی تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کر دی تھی۔









