بھارت

بھارت : ہندو انتہا پسند تنظیم کاعمر خالد پر دستاویزی فلم کی نمائش منسوخ کرنے کا مطالبہ

بنگلور: ایس ایس سے وابستہ طلبا تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے بنگلور کی نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی (این ایل ایس آئی یو) میں جیل میں نظربندمسلمان کارکن عمر خالد پر بنائی گئی دستاویزی فلم کی مجوزہ نمائش منسوخ کرانے کے لیے بھارتی حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اے بی وی پی نے بھارتی حکومت سے اپیل کی ہے کہ مجوزہ پروگرام کی اجازت دیے جانے کے معاملے میں نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی کی انتظامیہ کے خلاف اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا حکم دیا جائے۔ ایک بیان میں اے بی وی پی کی بنگلور شاخ نے کہا کہ اس سلسلے میں وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر تعلیم پرہلاد جوشی اور قانون و انصاف کے وزیر مملکت ارجن رام میگھوال کو مداخلت کی درخواست کی گئی ہے۔ عمر خالد پر بنائی گئی دستاویزی فلم”قیدی نمبر626710حاضر ہے“،کیمپس میں دکھائی جانی تھی، تاہم منتظمین نے حال ہی میں سکیورٹی اور انتظامی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی نمائش ملتوی کردی تھی۔اے بی وی پی نے کہا کہ نمائش ملتوی کرنا دراصل ایک حکمت عملی ہے جس کا مقصد عوامی احتجاج اور مخالفت کے کم ہونے کا انتظار کرنا ہے۔ تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں کو کسی سیاسی پروپیگنڈے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اے بی وی پی نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ این ایل ایس آئی یو انتظامیہ کو ہدایت دے کہ دستاویزی فلم کی فلم بندی، نمائش یا تشہیر کے لیے کیمپس میں دی گئی تمام اجازتیں مستقل طور پر واپس لی جائیں اور مستقبل میں کسی بھی عنوان کے تحت اس پروگرام کی اجازت نہ دی جائے۔واضح رہے عمرخالد گزشتہ چھ سال سے بغیر کسی سزا کے جیل میں نظربند ہیں اور بھارت کی عدالتیں بی جے پی حکومت کے دباﺅ کی وجہ سے انہیں ضمانت دینے سے کتراتی ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button