برکس سربراہ اجلاس ناکام رہا، مودی کی سفارت کاری پر بھارتی تجزیہ کار کے سوالات
چین سے بھارت کا فاصلہ برکس تعاون کو کمزور کر رہا ہے : اجے شکلا
نئی دہلی: بھارت کے سینئر صحافی اور دی پرنسپل انڈیا کے ایڈیٹر اجے شکلا نے 2026کے برکس سربراہ اجلاس سے متعلق وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمت عملی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین کے ساتھ قریبی تعاون سے بھارت کی ہچکچاہٹ نے گروپ کی صلاحیت کو محدود اور نئی دہلی کی خارجہ پالیسی کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اجے شکلا نے حیدر حیات خان کی میزبانی میں ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بھارت نے برکس سے عملی طور پر کیا فوائد حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ٹھوس نتائج حاصل کرنے کے بجائے سفارتی علامتوں اور تشہیری سرگرمیوں کو ترجیح دیتی دکھائی دیتی ہے۔
اجے شکلا نے کہا کہ بھارتی حکومت کے ان دعووں کے باوجود کہ مودی ایک عالمی رہنما کے طور پر ابھرے ہیں، برکس سے بھارت کو کوئی قابل ذکر فوائد حاصل نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق سربراہ اجلاس بڑی حد تک رسمی ملاقاتوں، تصاویر اور تقاریر تک محدود رہا جبکہ بھارت کے لیے ٹھوس اقتصادی اور سفارتی فوائد حاصل نہیں کیے جا سکے۔انہوں نے چین کے حوالے سے بھارت کے طرزِ عمل پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین بھارت کا سب سے بڑا اقتصادی ہمسایہ ہے اور بیجنگ کے ساتھ قریبی اقتصادی اور تکنیکی تعاون سے گریز برکس کے دائرہ کار میں تجارت اور ترقی کے مواقع کو محدود کرتا ہے۔
بھارتی تجزیہ کار نے روس اور ایران کے حوالے سے نئی دہلی کی خارجہ پالیسی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ مودی حکومت کے طرزِ عمل نے بھارت کی جانب سے آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرنے کے دعووں میں تضادات کو نمایاں کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس اور ایران کی صورتحال نے ان مشکلات کو ظاہر کیا ہے جن کا سامنا نئی دہلی کو بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم کرتے ہوئے کرنا پڑ رہا ہے۔شکلا نے کہا کہ نئی دہلی برکس کی دو بڑی طاقتوں چین اور روس کے موقف کو نظر انداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔انہوں نے بھارت کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر بار بار پیش کیے جانے پر سوال اٹھایا اور ملک کے اندر اقتصادی اور روزگار سے متعلق مسائل کا حوالہ دیا۔
شکلا نے بے روزگاری اور انتہائی کم اجرت والی ملازمتوں کی دستیابی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی بین الاقوامی سطح پر اپنا تشخص اجاگر کرنے کی کوششوں اور عام بھارتی شہریوں کو درپیش حالات کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ان کا یہ بیان مودی حکومت کی جانب سے برکس سربراہ اجلاس کے انعقاد اور بھارت کو ایک بااثر عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں پر ہونے والی شدید تنقید کے دوران سامنے آیا ہے۔
رپورٹس میں نئی دہلی میں سربراہ اجلاس کے مقام کے اردگرد وسیع سکیورٹی انتظامات، سڑکوں پر پابندیوں اور دیگر اقدامات کے باعث عوام کو درپیش مشکلات کا بھی ذکر کیا گیا۔شکلا کے بیان نے اس سوال کو اجاگر کیا ہے کہ آیا مودی کے دور میں بھارت کی برکس سفارت کاری بین الاقوامی سطح پر ٹھوس اقتصادی، تکنیکی اور تزویراتی فوائد حاصل کرپارہی ہے یا نہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بڑی ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان تعاون بڑی حد تک چین، روس اور دیگر رکن ممالک کے باہمی تعلقات سے متاثر ہو رہا ہے۔





