نئی دلی:نام نہاد سیکولر بھارت کا پردہ چاک ہوگیاہے ، جہاں مسلم سرکاری افسران بھی ہندوتوا انتہاپسندوں کے نشانے پر آ گئے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بی جے پی کے ہندوتوا کے زیر اثر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تعصب اپنی انتہا پر پہنچ چکا ہے اور اب سرکاری افسران کو بھی ہراسانی و تعصب زدہ سوچ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بھارتی جریدے مکتوب میڈیا کے مطابق اسلامی جملوں کے استعمال پر ہندوتوا انتہا پسندوں کی نفرت انگیز مہم کے بعد مسلم آئی پی ایس آفیسر بشری بانو کا تبادلہ کر دیا گیاہے۔مکتوب میڈیا کے مطابق السلام علیکم اور جزاک اللہ بولنے پر انتہا پسند ہندو گروہوں نے مسلم خاتون افسر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور انتہاپسند تنظیم ہندو لیگل فنڈز نے ہوم سیکریٹری کو مسلم آئی پی ایس افسر بشری بانو کیخلاف شکایت درج کرائی ہے۔ہندوتوا سرگرمیوں پر ہندو پولیس افسرانوج چودھری کو ترقی اور مسلم افسر کا تبادلہ مسلمانوں کیخلاف امتیازی سلوک کا عکاس ہے۔بھارت میں مذموم سیاسی عزائم کے لیے نفرت و تقسیم اور مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں پر مظالم بی جے پی کا پرانا ہتھکنڈا ہے۔
ادھرمغربی بنگال میں انڈین پولیس سروس کی افسر ڈاکٹر بشری بانو کے اچانک تبادلے پر سیاسی رہنمائوں اور مبصرین کی جانب سے کڑی تنقید کی جارہی ہے ۔ مغربی بنگال کیڈر کی 2021بیچ کی افسر ڈاکٹر بشری بانو کو 14ستمبربروزپیر کو عوامی مفاد کے تحت ریاستی آرمڈ پولیس کی چوتھی بٹالین میں ڈپٹی کمانڈنٹ تعینات کر دیا گیا۔ یہ اقدام 13ستمبر کو سامنے آنے والی ایک ویڈیو کے بعد ہوا، جس میں بانو نے یو پی ایس سی امیدواروں سے خطاب کرتے ہوئے اپنے پیشہ ورانہ سفر کے بارے میں گفتگو کی تھی۔ بشریٰ بانو کا تبادلہ ایک ہندوتوا گروپ کی شکایت کے بعد کیا گیا، جس نے ایک ویڈیو میں ان کے اسلامی اندازِ سلام اور بعض مذہبی اصطلاحات کے استعمال پر اعتراض کیا تھا۔








