بھارت :منی میں تازہ تشدد،20مکانات نذرآتش، کرفیو نافذ

ٓامپھال:بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور کے ضلع اکھرول میںتازہ ترین تشدد کے بعد کرفیو نافذکردیاگیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پرتشدد واقعات میںاکھرول کے علاقے لیتن ساریکھونگ میں مسلح کوکی عسکریت پسندوں نے تنگکھول ناگا برادری سے تعلق رکھنے والے کم از کم 20 مکانات کو نذر آتش کر دیاتھا۔تازہ تشدد ایک تنگکھول ناگا شخص پر کوکی نوجوانوں کے ایک گروپ کی طرف سے مبینہ طور پر حملہ کے بعد شروع ہوا۔ اگرچہ یہ معاملہ متاثرہ شخص اور گاؤں کے سربراہ کے درمیان روایتی بات چیت کے ذریعے حل کیا گیا تھا، لیکن اتوار کو مفاہمت کی ایک میٹنگ ناکام ہو گئی جس کے بعد قریبی علاقے شکی بنگ کے عسکریت پسندوں نے لیتن ساریکھونگ پر ایک مربوط حملہ کیا، گھروں اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور گاؤں کے پولیس اسٹیشن کے آس پاس گولیاں چلائیں۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو فوٹیج میں مسلح افراد کو ہوا میں فائرنگ کرتے اور گھروں کو نذر آتش کرتے ہوئے دیکھا جاسکتاہے۔ بھارتی فورسز نے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے تاہم صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ نذرآتش کئے گئے مکانات کی اصل تعداد ابتدائی اندازوں سے زیادہ ہو سکتی ہے۔اکھرول کے ضلعی حکام نے اتوار کی شام 7 بجے سے لیتن ساریکھونگ میں کرفیو نافذ کر دیا، رہائشیوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔ امن و امان برقرار رکھنے اور مسلح گروپوں کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے مہادیو، لمبوئی، شانگکئی اور آس پاس کے علاقوں میں اضافی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ سرکاری عہدیداروں نے کشیدگی کو خطے میں امن و سکون کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔ ایک سرکاری عہدیدار نے بتایاکہ نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور حالات بدستور کشیدہ ہیں۔








