پاکستان

میر واعظ ، آغا سید حسن، ڈی ایف پی کا مکہ المکرمہ کے قریب ڈرون حملے کی اطلاعات پر اظہار تشویش

مقدس مقامات کا تقدس و تحفظ ہر حال میں برقرار رکھنے پر زور

سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق نے مکہ المکرمہ کے قریب ڈرون حملے کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں فکر و تشویش پیدا ہوئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق میر واعظ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ مشرق وسطیٰ کا خطہ پہلے ہی طویل تنازعے کی زد میں ہے، اس لیے تمام فریقین کو صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور فوری طور پر بات چیت اور سفارت کاری کی طرف واپس آنا چاہیے۔
دریں اثنا حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور انجمن شرعی شیعیان کے صدر آغا سید حسن موسوی الصفوی نے بھی سرینگر میں ایک بیان میں مکہ مکرمہ کے قریب ڈوروان حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور زور دیا کہ اسلامی مقدس مقامات کا تقدس اور تحفظ ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ اور مدینہ پوری امت مسلمہ کے روحانی ورثے کا حصہ ہیں اور کوئی بھی ایسا عمل جو ان کے تقدس کو خطرے میں ڈالے یا اسے مجروح کرے، ناقابلِ قبول ہے ۔انہوں نے تحمل، ذمہ دارانہ رویے اور حقائق کے غیر جانبدارانہ تعین پر زور دیا اور خبردار کیا کہ مقدس شہروں کو فوجی تصادم، سیاسی تنازعات یا علاقائی مفادات کی کشمکش میں الجھنے سے بچایا جائے۔آغا سید حسن نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور حرمین شریفین کا تقدس و احترام ہر حال میں برقرار رکھیں۔
ادھر جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی(ڈی ایف پی) کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے بھی سرینگر میں جاری ایک بیان میں مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حرمین شریفین کی حرمت، تقدس اور سلامتی پوری امتِ مسلمہ کے ایمان اور عقیدے کا معاملہ ہے۔ مکہ مکرمہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں کا مرکز ہے اور اس کی طرف کسی بھی قسم کی جارحیت ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان دنیا کے کسی بھی خطے میں ہوں، حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کرسکتے۔ مقدس مقامات کو خطرے میں ڈالنے والے ایسے واقعات نہ صرف مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔
ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو موجودہ نازک حالات میں ایک بروقت اور اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج مسلم دنیا کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان مشترکہ سلامتی، باہمی تعاون اور یکجہتی کا فروغ وقت کا اہم تقاضا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام طویل عرصے سے تنازع، تشدد اور عدمِ تحفظ کے اثرات برداشت کر رہے ہیں، اس لیے وہ دنیا کے ہر خطے میں امن، انسانی جانوں کے تحفظ، مذہبی مقامات کے تقدس اور بین الاقوامی اصولوں کے احترام کے حامی ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری اور بالخصوص مسلم ممالک پر زور دیا کہ موجودہ کشیدہ حالات کو مزید تصادم کی طرف لے جانے کے بجائے مکالمے، سفارت کاری کو ترجیح دیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button