بی جے پی حکومت خود کو غیر محفوظ محسوس کررہی ہے ،محبوبہ مفتی
ہندوتوا تنظیم مسلمانوں کی بول چال پر پہرہ دے رہی ہے
سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے اور اب وہ بھارت میں مسلم کمیونٹی کی بول چال پر پہرہ دے رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، محبوبہ مفتی نے سوشکل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں آئی پی ایس افسر بشریٰ بانو کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال کے علاقے کھڑگپور میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے پر تعیناتی کے صرف ڈھائی ماہ کے اندر ان کا تبادلہ کر دیا گیا۔ جس کی مبینہ وجہ ایک ویڈیو میں "السلام علیکم اور انشا اللہ”کے الفاظ استعمال کرناتھا۔انہوں نے کہاکہ اس طرح کے واقعات سے اب مسلم کمیونٹی کو کوئی صدمہ نہیں پہنچتا۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ "بشری بانو کا ‘السلام علیکم’، ‘ان شا اللہ’ اور ‘جزاک اللہ’ کہنے پر تبادلہ اور اس کے بعد مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ کا انتخابات کو مسلمانوں کی وفاداری کا ‘امتحان’ قرار دینا، جو پوری کمیونٹی کے لیے ایک دھمکی ہے، اب ہمیں حیران نہیں کرتا۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ یہ بات انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ تین سادہ الفاظ ‘تم پر سلامتی ہو’، ‘اگر خدا نے چاہا’، اور ‘خدا کی تعریف ہو’ بظاہر اتنی بڑی اور طاقتور ہندوتوا جماعت کو ہلا سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھارت میں پہلے ہمارا کھانا، کپڑے اور شادی، اب ہماری بول چال اور ہمارے ووٹوں پر بھی پہرہ دیا جا رہا ہے۔ پی ڈی پی کی سربراہ نے کہاکہ عدم تحفظ کا دوسرا نام بی جے پی ہے۔









