مقبوضہ جموں و کشمیر

مساجد ، آئمہ کرام کی پولیس پروفائلنگ کی رپورٹنگ پر صحافیوں کو تھانوں میں طلب کرنے کی مذمت

سری نگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کارکنوں نے مساجد کی پروفائلنگ کی کوریج پر پولیس حکام کی طرف سے صحافیوں کو طلب کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے میڈیا کو ڈرانے دھمکانے کی دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق گزشتہ چند دنوں کے دوران متعدد صحافیوں کو سری نگر کے سائبر پولیس تھانے میں پیش ہونے کے لیے کہا گیا جہاں ان سے ان کی خبروں کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ بھارتی پولیس نے اس معاملے پر کوئی سرکاری وضاحت بھی جاری نہیں کی ، جس سے شفافیت کے فقدان کے خدشات بڑھ گئے تھے۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو تھانوں میں طلب کیا جا رہا ہے اور انہیں علاقے کی اصل صورتحال سامنے نہ لانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات صحافت کی آزادی کو مجروح کرتے ہیں جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ پی ڈی پی کی رہنما اور محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ صحافی جو غیر قانونی اور غیر انسانی اقدامات کے بارے میں رپورٹنگ کرتے ہیں، انہیں دھمکیاں دی جاتی ہیں اور خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
کانگریس مقبوضہ جموںوکشمیر شاخ کے سربراہ طارق حمید قرہ نے رپورٹروں کو تھانوں میں طلب کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقامی اخبارات کے صحافیوں سے معمول کی رپورٹنگ کے لیے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ۔
نیشنل کانفرنس کے ترجمان طاہر سعید نے کہا کہ آزاد صحافت کسی بھی جمہوریت کا سنگ بنیاد ہے اور صحافیوں کو ڈرا دھمکا کر خاموش کرنے کی کوششوں کی مزاحمت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں صحافی پہلے ہی غیر معمولی مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں۔
رکن اسمبلی سجاد لون نے ایک بیان میں کہا کہ حقائق پر مبنی مسائل کی رپورٹنگ کے لیے صحافیوں کوطلب کرنا افسوسناک ہے۔
کمیونیٹ پارٹی آف انڈیا-مارکسسٹ (سی پی آئی-ایم) کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ نامہ نگاروں کو طلب اور بانڈز پر دستخط کرنے پر مجبور کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔
یاد رہے کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق پہلے ہی ایک بیان میں مساجد اور دیگر مذہبی اداروں اور ان سے وابستہ لوگوں کی پروفائلنگ پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کر چکے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button