آوٹ سورسنگ نے کشمیری نوجوانوں کو بے یقینی کی صورتحال میں دھکیل دیا ہے: التجا مفتی
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے بجائے آو¿ٹ سورسنگ کو فروغ دینے پر قابض حکام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ریزرویشن پالیسی سے متعلق رپورٹ جاری کرنے میں تاخیر نے نوجوانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق التجا مفتی نے سرینگر میں پی ڈی پی دفتر کے باہر احتجا ج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوپن میرٹ پر طلبہ اور ملازمت کے امیدواروں کو انصاف سے محروم رکھا جا رہا ہے، کیونکہ انتظامیہ نے یقین دہانی کرانے کے باوجود ریزرویشن پالیسی سے متعلق رپورٹ عوام کے سامنے پیش نہیں کی۔انہوں نے بھرتیوں میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں کی بھی نشاندہی کی جن میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی سلیکشن لسٹ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کیا کہ آو¿ٹ سورسنگ کی پالیسی سے مقامی نوجوانوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے اور انہیں روزگار کے مواقع سے محروم کیاجارہا ہے۔
التجا مفتی نے حالیہ پالیسی تبدیلیوں کے بعد معاشی طور پر کمزور خاندانوں اور امیدواروں کو درپیش مشکلات کو اجاگر کرتے ہوئے میڈیکل انٹرنز اور ملازمین کو درپیش مسائل کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ان کی تنقید کا مقصد جواب دہی پر زوردینا ہے اور یہ کسی خاص برادری کے خلاف نہیں ہے۔ انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں سے کیے گئے وعدے پورے کرے۔مظاہرین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے التجا مفتی نے کہاکہ میرا مقصد حکام کو یہ یاد دلانا ہے کہ آپ نے ان طلبہ اور جموں و کشمیر کے نوجوانوں سے ایک بہت بڑا وعدہ کیا تھا کہ آپ یہ رپورٹ سامنے لائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم یہاں عمر عبداللہ کو یہ یاد دلانے کے لیے موجود ہیں کہ آپ کو جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو انصاف فراہم کرنا ہوگا۔







