کرگل میں وکلا کا عدالتی بائیکاٹ،ہائی کورٹ بنچ کے قیام کا مطالبہ
کرگل: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے لداخ خطے میں کرگل بار ایسوسی ایشن نے کرگل میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کا باقاعدہ سرکٹ بنچ قائم نہ کرنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا ہے۔
بار ایسوسی ایشن ضلع میں ہائی کورٹ بنچ کے باقاعدہ قیام کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ خطے کے دشوار جغرافیائی حالات اور زیر التوا مقدمات کی بڑی تعداد اس سہولت کے قیام کی متقاضی ہے۔ احتجاج 24 ستمبر تک جاری رہے گا۔
یہ احتجاج لہہ میں ہائی کورٹ بنچ قائم کرنے کی تجویزکی اطلاعات کے دوران کیا جا رہا ہے جس کے بعد کرگل بار نے سائلین کی سہولت کے لئے کرگل میں بھی اسی طرح کا بینچ قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کرگل بار ایسوسی ایشن کے صدر ریاض احمد خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ’عدالتوں کا بائیکاٹ 24 ستمبر تک جاری رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہم سائلین اور وکلاءبرادری کے مفاد میں کرگل میں ہائی کورٹ بنچ کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرگل کے دور دراز علاقوں سے آنے والے سائلین کو دشوار گزار علاقے اور ہائی کورٹ تک براہِ راست رسائی نہ ہونے کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے باعث بنچ کا قیام فوری ضرورت بن چکا ہے۔







