قابض حکام نے بارہمولہ میں ایک اور کشمیری کادو منزلہ رہائشی مکان ضبط کر لیا
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بی جے پی حکومت کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کی زیر قیادت قابض انتظامیہ نے ریاستی جبر کی تازہ کارروائی میں ضلع بارہمولہ میں ایک کشمیری کا دو منزلہ رہائشی مکان ضبط کر لیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پولیس نے ضلع کے علاقے نمبلن میں اعجاز احمد کا دو منزلہ رہائشی مکان غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون (UAPA)کے تحت ضبط کیا ہے۔بھارتی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ مذکورہ شخص آزادی پسند اور بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے جن میں وادی کشمیر میں آزادی کے مطالبے کی حمایت کرنا بھی شامل ہے۔اگست 2019میں دفعہ370اور 35اے کی منسوخی اورجموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے بی جے پی کی زیر قیادت ہندوتوا حکومت نے کشمیریوں کو ان کے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔اس اقدام کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کو ہراساں کرنا اور انہیں معاشی طور پر کمزور کرنا ہے۔ بھارتی فورسز کے اہلکار کالے قوانین کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے کشمیری نوجوانوں کو منظم انداز میں نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ ان کی جائز سیاسی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت استصواب رائے کے منصفانہ مطالبے کو دبایا جا سکے۔








