مقبوضہ جموں و کشمیر

ووٹر فہرستوں میں ردوبدل سے بھارت ایک” بنانا ری پبلک ”بن سکتا ہے : محبوبہ مفتی

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیںپیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کی خواہشات کے مطابق انتخابی فہرستوں میں ردوبدل کا سلسلہ جاری رہا تو بھارت ایک بنانا ری پبلک جیسی ریاست بن سکتا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی جانب سے انتخابی فہرستوں کے انتظام سے متعلق مبینہ اعتراضات کو جمہوریت کے لیے ایک اہم حفاظتی اقدام قرار دیا۔انہوں نے ان کے خلاف ممکنہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ یا انکم ٹیکس کے چھاپوں کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا انہیں بھی ایسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔انڈین ایکسپریس نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ دونوں الیکشن کمشنرز نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران ووٹروں کی رجسٹریشن، ناموں کے اخراج اور بحالی اور انتخابی فہرستوں کے ڈیٹا سے متعلق معاملات پر کم از کم 14 مرتبہ باضابطہ اعتراضات اٹھائے ہیں۔تاہم بھارتی الیکشن کمیشن کے حکام نے کہا کہ خصوصی جامع نظرثانی (SIR)سمیت انتخابی فہرستوں سے متعلق کمیشن کے تمام فیصلے چیف الیکشن کمشنر اور دونوں الیکشن کمشنرز کی منظوری سے متفقہ طور پر کیے گئے ہیں۔الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات کے بارے میں بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ انتخابات کی نگرانی کے ذمہ دار حکام کی جانب سے اختلاف رائے بھارتی جمہوریت کے موثر طور پر کام کرنے کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہاکہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں کے ذریعے انتخابی عمل کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور دونوں کمشنرز کے مبینہ اعتراضات نے ناموں کے اندراج اور اخراج سے متعلق خدشات کو نمایاں کیا ہے۔محبوبہ مفتی نے بھارت کی طرف سے خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دینے اور وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے ملک کو جمہوریت کی ماں کہنے کا بھی حوالہ دیا۔انہوں نے کہاکہ اگر ہم اسی طرح چلتے رہے تو ایک وقت آئے گا جب ہم ایک بنانا ری پبلک جیسا ملک دکھائی دیں گے، کوئی جمہوریت نہیں ہوگی۔پی ڈی پی صدر نے ابتدائی انتخابی فہرستوں سے ووٹروں کے نام خارج کیے جانے کا بھی حوالہ دیا اور الیکشن کمیشن کے اندر آزادانہ طور پر کام کرنے والے حکام کی اہمیت پر زور دیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button