World

ترک صدر کامسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور

نیویارک: ترک صدر رجب طیب اردوان نے منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کے دوران ایک بار پھر مسئلہ کشمیر اٹھایا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ترک صدر نے جنوبی ایشیا میں کشمیر سمیت تمام تنازعات کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی موجودگی میں خطاب کرتے ہوئے اردوان نے کہا کہ تنازعات کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ جنوبی ایشیا میں یہ ضروری ہے کہ کشمیر کے مسئلے سمیت تمام تنازعات کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے مطابق بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تقاریرمیں تنازعہ کشمیر اردوان کا مسلسل موضوع رہا ہے۔ انہوں نے 2019سے اب تک سات مرتبہ مسئلہ کشمیر اٹھایا ہے جبکہ اس عرصے کے دوران 2024واحد سال تھا جب انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا۔اردوان نے پہلی مرتبہ 2019میں مسئلہ کشمیر اٹھایا تھا جب بھارت نے دفعہ370کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔ ان کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ایک اہم سفارتی مسئلہ بنی ہوئی ہے۔اردوان کے اسلام آباد کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور وہ بارہا مسئلہ کشمیر کے پرامن حل پر زور دیتے رہے ہیں ۔
اردوان نے فلسطین کی بھی بھرپور حمایت کی اور غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں پر تنقید کی۔انہوںنے غزہ کی صورتحال پر عالمی دبا وبڑھانے کا مطالبہ کیا اور ان ممالک پر زور دیا جنہوں نے فلسطین کو تسلیم نہیں کیا کہ وہ اپنے موقف پر نظرثانی کریں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کے لیے آواز اٹھاتا رہے گا۔فلسطین کے حوالے سے اردوان کے خطاب کے دوران اسرائیلی نمائندہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال سے واک آوٹ کر گیا۔اردوان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے موجودہ ڈھانچے پر بھی تنقید کی اور اس میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 190سے زائد ممالک کو متاثر کرنے والے فیصلے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان پر منحصر نہیں ہونے چاہئیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button