پاکستان سندھ طاس معاہدے کے مکمل اور منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتا ہے ، وزیراعظم
پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں عالمی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں
اسلام آباد:وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے 1960کے سندھ طاس معاہدے کے مکمل اور منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتا ہے اور پانی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی کوششوں کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی سمجھتا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق آبی ذخائر کے عالمی دن پراپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ یہ دن پاکستان اور اقوام عالم کو آبی ذخائر کے دیر پا تحفظ اور انتظام کے عزم کے اعادہ کا موقع فراہم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان1971کے آبی ذخائر کے عالمی معاہدے کا رکن ہے جس کے تحت نوع انسانی کے لیے آبی ذخائر کے استعمال اور ان کے وسائل کے تحفظ کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ قابل بھروسہ آبی ذخائر کسی بھی ملک کے لیے شدید ماحولیاتی اور معاشی مسائل سے نبرد آزما ہونے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، یہ ذخائر خشک سالی،سیلاب اور شدید موسمیاتی تغیرات کے منفی اثرات سے بچا میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ہمارے آبی ذخائر، بشمول جھیلیں اور گلیشیئرز، مقامی آبی ذخائر اور ساحلی و مینگروو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی تغیر سے بچائو اور پانی کے نظم و نسق کا باعث اور لاکھوں پاکستانیوں کے لیے آبی ذخائر ذریعہ معاش اور روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔آبی ذخائر کا تحفظ محض موسمیاتی تغیر سے بچائو کے لیے ماحولیاتی فریضہ نہیں بلکہ یہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سماجی فلاح و بہبود کا ضامن ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے مکمل اور منصفانہ نفاذ پر یقین رکھتا ہے، پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوششوں کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی سمجھتا ہے اوربھرپور انداز میں مسترد کرتا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان ممالک کے درمیان آبی ذخائر کے منصفانہ، قانونی اور پرامن استعمال کے فروغ کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔





