نومبر 1947 جموں نے پاکستان کی محبت میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا
برصغیر کی تاریخ میں 6 نومبر 1947کا دن ایک خونچکاں باب کے طور پر درج ہے۔یہ دن اس سانحے کی یاد دلاتا ہے جب جموں کے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال کر منظم طور پر قتل عام کا نشانہ بنایا گیا۔یہ ظلم نہ صرف مذہبی منافرت کا مظہر تھا بلکہ انسانیت کی تاریخ کا سیاہ ترین باب بھی ہے۔
1947 میں برصغیر سے برطانوی سامراج کے خاتمے کا اعلان ہوا ،برطانوی سامراج کے خاتمے کے بعد برصغیر میں دو بڑی قومیں آباد تھیں ہندو اور مسلمان،مسلمانوں نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں الگ ریاست پاکستان قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ یوں برصغیر کی سرزمین دو نئی مملکتوں میں بٹ گئی ایک، مسلمانوں کے خوابوں کی تعبیر پاکستان؛ اور دوسری، ہندو اکثریت پر مبنی بھارت۔ ریاستوں کی تقصیم میں وہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت میں تھے، پاکستان کا حصہ اور جہاں ہندو اکثریت تھی، وہ بھارت میں شامل ہونے کا فیصلہ ہوا۔ کچھ فیصلے علاقے کی جغرافیائی پوزیشن کے مطابق کیے گئے یعنی کون سا خطہ کس ملک سے ملا ہوا ہے۔ تقریبا 562 نوابی و خودمختار ریاستوں کو یہ حق دیا گیا کہ وہ اپنی آبادی کے مذہب اور جغرافیائی محلِ وقوع کے مطابق پاکستان یا بھارت میں شامل ہوں، یا خودمختار رہنے کا فیصلہ کریں۔ تاہم کئی ریاستوں جیسے جموں و کشمیر، حیدرآباد دکن، اور جوناگڑھ میں یہ اصول نظرانداز کیے گئے۔جب برطانوی حکومت نے برصغیر کی تقسیم اور پاکستان و بھارت کے قیام کا اعلان کیا تو جموں و کشمیر کی ریاست کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کرے۔ 19 جولائی 1947 کا وہ تاریخی دن ہے جب جموں و کشمیر کے مسلمانوں نے سرینگر میں "آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس” کے اجلاس میں قراردادِ الحاقِ پاکستان منظور کی تھی۔
قرارداد کے اہم نکات:
1۔ ریاست کی مسلم اکثریت پاکستان کے ساتھ قدرتی و فطری رشتہ رکھتی ہے۔
2۔ ریاست کی معاشی راہیں ،دریا، تجارت، راستے پاکستان سے جڑی ہوئی ہیں۔
3۔ کشمیر کے عوام کی مذہبی و تہذیبی وابستگی بھی پاکستان کے ساتھ ہے۔
4۔ ریاست کے مستقبل کا فیصلہ عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔
مہاراجہ ہری سنگھ کشمیری عوام کا فیصلہ الحاق پاکستان سے خوفزدہ ہو گیا۔ اس کے بعد اس نے ریاست میں مسلم اکثریت کو کمزور کرنے کے لیے ایک خفیہ منصوبہ بنایا۔ منصوبے کے اہداف خصوصا جموں خطے میں مسلمانوں کی آبادی کو کم کرنا۔ مسلمانوں کی سیاسی و اکثیریتی برتری ختم کرنامسلمانوں کے خلاف خوف و دہشت کی فضا پیدا کر کے انہیں پاکستان کی طرف ہجرت پر مجبور کرنا تھا۔ اکتوبر کے مہنے میں ہی ڈوگرہ فوج پشت پناہی سے ہندو انتہا پسندوں اور RSS کے مسلح گروہوں نے جموں کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں پر حملے شروع کیے۔ ڈوگرہ فوج کی پشت پنائی سے آر ایس ایس کے مسلح گروہوں کی طرف سے کئی مساجد، مکانات اور دکانیں جلائی گئیں، اور عورتوں اور بچوں پر بھی بے دردی سے مظالم ڈھائے گئے۔ مہاراجہ سرکار کی طرف سے مواصلاتی راستے بند کر دیے گئے تاکہ مسلمان مدد یا فرار نہ حاصل کر سکیں۔ جموں شہر کے ارد گرد علاقوں میں بھی جھوٹی امان کی پیشکش کر کے مسلمانوں کو جمع کر کے اجتماعی قتل کیا گیا۔
خوف و دہشت کے ماحول میں ایک منصوبے کے تحت مسلمانوں کو یہ کہہ کر جموں شہر میں جمع ہونے کے لیے کہا گیا کہ انہیں بحفاظت پاکستان بھیج دیا جائے گا، لیکن یہ ایک بھیانک سازش ثابت ہوئی۔ لاکھوں مسلمانوں کو یہ کہہ کر جمع کیا گیاکہ انہیں سیالکوٹ پاکستان بھیجا جا رہا ہے۔انہیں ٹرکوں، بیل گاڑیوں اور قافلوں کی صورت میں جموں سے سیالکوٹ کی طرف روانہ کیا گیا،لیکن جب یہ قافلے جموں سے سیالکوٹ روڈ پر پہنچے توڈوگرہ فوج اور مسلح ہندو انتہا پسندوں نے گھات لگا کر ان پر حملہ کر دیا۔ عورتیں، بچے، بوڑھے کوئی بھی محفوظ نہ رہا۔ بے شمار خواتین کو اغوا اور بے حرمتی کا نشانہ بنایا گیا۔نہتے مسلمانوں کو تلواروں، بندوقوں اور آتشیں ہتھیاروں سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ اور یہ سلسلہ کئی روز تک چلتا رہا، صرف جموں خطے میں تقریبا 2 سے 2.5 لاکھ مسلمان شہید ہوئے۔5 لاکھ سے زائد مسلمان بے گھر ہو کر پاکستان کی طرف ہجرت پر مجبور ہوئے۔اس منصوبے کے نتیجے میں جموں کی مسلم اکثریت اقلیت میں بدل گئی۔
جموں قتلِ عام 1947 چشم دید گواہوں کی شہادتیں
چودھری غلام حسین: چودھری غلام حسین، جو جموں شہر کے نواحی گاں سے تعلق رکھتے تھے،انھوں نے بعد میں پاکستان پہنچ کر ایک بیان میں کہا: "ہمیں بتایا گیا کہ ہمیں ٹرکوں کے ذریعے سیالکوٹ پہنچایا جائے گا تاکہ ہم محفوظ رہیں۔لیکن جیسے ہی ہمارا قافلہ جموں-سیالکوٹ روڈ پر پہنچا،ڈوگرہ فوج اور ہندو مسلح جتھوں نے چاروں طرف سے حملہ کر دیا۔مردوں کو گولیوں سے اڑا دیا گیا، عورتوں اور بچیوں کو اٹھا کر لے گئے۔میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا دریائے توی کا پانی مسلمانوں کے خون سے سرخ ہو گیا تھا۔”
راجہ محمد اکبر خان(صحافی و محقق) : انہوں نے اپنی تحریر "Kashmir in Flames” میں لکھا کہ "6 نومبر کے بعد جموں کے ہر گاں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔میں خود گواہ ہوں کہ مسلمانوں کے قافلے کو ‘پاکستان روانگی’ کے بہانیقتل گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا۔بچوں کی لاشیں سڑکوں پر بکھری ہوئی تھیں،اور عورتیں چیختی رہ گئیں۔”
سید سجاد حسین (چشم دید پناہ گزین) : انہوں نے 1948میں لاہور میں اپنے انٹرویو میں کہا: "میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ قافلوں کو گن پوائنٹ پر روک کر مردوں کو الگ اور عورتوں کو الگ کیا جا رہا تھا۔جنہوں نے بھاگنے کی کوشش کی، انہیں فورا گولی مار دی گئی۔میری ماں اور دو بہنیں بھی اسی دن شہید ہو گئیں۔”
برطانوی صحافی Ian Stephens (Editor, The Statesman, India انہوں نے اپنی کتاب "Horned Moon” (1951) میں لکھا ہے
"In Jammu, I personally verified reports thattens of thousands of Muslims were systematically exterminated.Whole convoys were ambushed —and the local Dogra forces did nothing to stop the slaughter.”
ترجمہ: جموں میں میں نے خود تصدیق کی کہ ہزاروں مسلمانوں کو منصوبہ بندی کے ساتھ قتل کیا گیا۔پورے قافلے گھات لگا کر تباہ کر دیے گئے،اور ڈوگرہ حکومت نے روکنے کے بجائے خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا۔”
یوصف صراف اپنی کتاب “Kashmiris Fight for Freedom” میں لکھتے ہیں یوصف صراف چشم دیدوں کے حوالے سے لکھا:ہے کہ "یہ ظلم کسی اچانک فساد کا نتیجہ نہیں تھا۔ڈوگرہ فوج نے خود یہ آپریشن منظم انداز میں کیا،تاکہ مسلمانوں کو صفح ہستی سے مٹا کرجموں کی آبادیاتی ساخت بدلی جا سکے۔”
سیالکوٹ کے پناہ گزینوں کی اجتماعی گواہی :
سیالکوٹ میں 1947کے آخر میں قائم پناہ گزین کیمپوں میںہزاروں لوگ جموں سے ہجرت کر کے آئے تھے۔کئی پناہ گزین عورتوں نے بیان دیا کہ: "ہم نے اپنے شوہر اور بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے دیکھا۔ہمارے گھروں کو آگ لگا دی گئی۔کچھ عورتوں نے عزت بچانے کے لیے دریائے توی میں کود کر جان دے دی۔”
برطانوی آرکائیوز اور بھارتی مورخین: برطانیہ کے نیشنل آرکائیوز میں موجودColonial Office Reports (1948)میں یہ اندراج ملتا ہے کہ "Over 200,000 Muslims perished in Jammu between October and November 1947.””The massacre appeared to have official sanction from Dogra authorities.”
ترجمہ: "اکتوبر سے نومبر 1947 کے درمیان جموں میں دو لاکھ سے زائد مسلمان مارے گئے۔یہ قتلِ عام ڈوگرہ حکومت کی سرپرستی میں ہوا معلوم ہوتا ہے۔”
موجودہ شوشل میڈیا دور میں بھی سوشل میڈیا پر جموں قتل عام کے کئی بزرگ اپنی المناک دستان بیان کرتے دیکھے جا سکتے ہیں ان ہی میں ایک عمر رسیدہ بزرگ نور محمد ہیں جو ایک مختصر ویڈیو کلپ میں جموں قتل عام کی بھیانک داستان بیان کرتے ہیں جس کے وہ چشم دید گواہ ہیں۔
چشم دید گواہوں کے بیانات،بین الاقوامی صحافیوں کی رپورٹیں،اور تاریخی ریکارڈز اس بات کی واضح گواہی دیتے ہیں کہ نومبر1947کو جموں میں ایک منظم اور منصوبہ بند نسل کشی (Genocide) ہوئی۔یہ صرف مذہبی بنیادوں پر فساد نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی منصوبہ تھا جس کا مقصدمسلمانوں کو جموں سے بے دخل کرنا اورریاست کی آبادیاتی ساخت کو بدلنا تھا۔ مختلف تاریخی ذرائع کے مطابق،تقریبا 2 لاکھ سے زائد مسلمان شہید ہوئے،جبکہ 5 لاکھ سے زیادہ لوگ ہجرت پر مجبور ہو کر پاکستان کی طرف نکل گئے۔جموں کی مسلم آبادی تقریبا اکثریت سے اقلیت میں بدل گئی۔یہ سانحہ محض مذہبی بنیادوں پر قتلِ عام نہیں تھا بلکہ انسانیت کے خلاف جرم (Crime Against Humanity) تھا۔اس واقعے نے ہزاروں خاندان اجاڑ دیے،بے شمار خواتین بیوہ ہوئیں،اور جموں کی مسلم تہذیب کو مٹا کر رکھ دیا۔
جموں کے قتلِ عام نے کشمیر کے مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اسی ظلم نے کشمیر کی آزادی کی تحریک کو مزید تقویت بخشی۔ دنیا بھر میں مقیم کشمیری ہر سال 6 نومبر کوی ومِ شہدا جموں کے طور پر مناتے ہیں، تاکہ دنیا کو یاد دلایا جا سکے۔ کہ نومبر 1947کا واقعہ نہ صرف کشمیر کی تاریخ بلکہ انسانی تاریخ کا بھی ایک المناک باب ہے،جموں و کشمیر کی عوام عزم کرتی ہے کہ ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے اور کشمیر کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔شہدائے جموں کی قربانیاں کا یہ تقاضا ہے کہ ہم اپنے اسلاف کے مشن کو فراموش نہ کریں جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر یہ ثابت کیا کہ اسلام، آزادی، اور شناخت کی حفاظت خون سے کی جاتی ہے، لفظوں سے نہیں۔ شہدائے جموں نے اپنا لہو دیکر جو راستہ دکھایاہے ہم اپنے قلم، زبان، اور عمل سے اس مشن کے امین بنیں۔ دنیا بھر میں مقیم کشمیری اس دن شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے یہ عہد کرتے ہیں کہ 1947 کے شہدا سے لے کر جاری تحریکِ آزادی کے دوران بھارت سے نجات کے لیے دی گئی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کریں گے، اور کشمیر کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو ہر قیمت پر جاری رکھیں گے۔
خونِ شہید سے جلتی ہے چراغِ آزادی،یہ روشنی ہمیں پیغامِ وفا دیتی ہے۔
لہو نے لکھ دی آزادی کی داستاں ایسی،کہ مٹ نہ پائے رنگِ وفا زمانے تک۔
تحریر : کے ایس ۔کشمیری








