مقبوضہ جموں و کشمیر

سرینگر: انتظامیہ نے درگاہ حضرت بل کے احاطے میں اشوکا کا نشان نصب کر دیا

کشمیری مسلمانوں کاتوحید کے منافی اقدام پر سخت ردعمل، نشان توڑ دیا

سری نگر،:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض انتظامیہ نے سرینگر کی معروف درگاہ حضرت بل کے احاطے میں موری خاندان کے آخری بڑے شہنشاہ اشوکا کا نشان نصب کر دیا ہے جس پر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے رہنما تنویر صادق نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ اقدام توحید کے بنیادی اسلامی عقیدے سے متصادم ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام بت پرستی کو سختی سے منع کرتا ہے ،ہمارے ایمان کی بنیاد توحید ہے۔انہوںنے کہا کہ درگاہ کے اندر اشوک کے نشان کی تنصیب بلا جواز ہے، یہ مجسمہ سازی کے زمرے میں آتا ہے جو اسلام کے رہنما اصولوں کے خلاف ہے۔
سری نگر سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن اور نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما آغا سید روح اللہ مہدی نے بھی سرینگر میں ایک بیان میں درگاہ حضرت بل پر اشوک کا نشان نصب کرنے کی مذمت کی اور اسے اسلام کے اصولوں کے منافی قرار دیا۔انہوںنے کہا کہ یہ کشمیری مسلمانوں کے لیے مذہبی لحاظ سے ایک حساس معاملہ ہے ۔ انہوںنے کہا کہ بی جے پی آر ایس ایس نے مقبوضہ علاقے میں اپنی گماشتہ خاتون درخشان اندرابی کے ذریعے اشوکا نشان نصب کروایا ہے۔
یاد رہے کہ درخشان اندرابی نے جو مقبوضہ کشمیر وقف بورڈ کی نام نہاد چیئرپرسن ہیں ،نے سرینگر کی شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کنارے واقع درگاہ حضرت بل جہاں آنحضورﷺ کا موئے مقدس موجود ہے ، کی تزئین و آرائش کے کام کا افتتاح کیا ہے ۔ اس حوالے سے درگاہ کے احاطے میں جو بورڈ نصب کیا گیا اس میں اوپر کی جانب ایک طرف اشوکا کا بھی نشانہ بنا ہوا ہے۔
دریںاثنا آج نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے درگاہ آنے والے کشمیری مسلمان یہ نشان دیکھ کر مشتعل ہوئے اور انہوں نے اسے توڑ دیا ۔ لوگوںنے اس موقع اپنے سخت غم و غصے کا اظہار کیا اور توحید کے منافی اس اقدام کے خلاف نعرے لگائے۔KMS-15/M

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button