مقبوضہ جموں و کشمیر

نئی دہلی اپنی کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کرے، ظالمانہ اقدامات کا خاتمہ کرے: محبوبہ مفتی

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں اپنی سخت گیر پالیسی پر نظرثانی کرے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ لوگوں کے بڑھتے ہوئے احساس محرومی کو دورکرنے کا واحد راستہ مفاہمت ہے ، ظلم وجبر نہیں۔انہوں نے کہاکہ05اگست 2019کو دفعہ370 کی منسوخی کے بعد بھارتی حکومت کی جانب سے حالات معمول پر آنے کے دعوئوں کے باوجود علاقے میں زمینی حقائق پریشان کن اور حق رائے دہی سے محرومی کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے یہ دعوے کہ پتھر کی جگہ کمپیوٹر اور کتابوں نے لے لی ہے جبکہ کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی ان دعوئوں کے بالکل برعکس ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ ان کی پارٹی نے حال ہی میں معاشرے کے تمام طبقوں کے درمیان ایک عوامی مکالمے کا اہتمام کیا تاکہ نئی دہلی کی جابرانہ حکومت کے تحت کشمیریوں کو درپیش مسائل کو سمجھا جاسکے ۔انہوں نے کہاکہ حالیہ دہلی دھماکے میں کچھ پڑھے لکھے نوجوانوں کی شمولیت نے انہیں ایک ماں کے طور پر ہلا کر رکھ دیا جس سے یہ بحث چھڑگئی کہ آخر نوجوان کشمیری زندگی پر موت کو ترجیح دینے پرکیوں مجبور ہیں۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ عوامی جذبات کو دستاویزی شکل دینے کے لیے جموں اور کشمیر میں مکالمے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مفاہمت کا ایک بامعنی عمل ہی مقبوضہ علاقے کے لوگوں کا وقار بحال کر سکتا ہے۔جموں اور کشمیر کے لوگ عزت اور وقار کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ انہیں یواے پی اے اور پی ایس اے جیسے کالے قوانین یا این آئی اے جیسی ایجنسیوں کے ذریعے دبایانہیںجانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کو ایسے اقدامات شروع کرنے چاہئیں جن میں جموں وکشمیرکی سیاسی حساسیت اور دیرینہ شکایات کو تسلیم کیاگیا ہو۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button