میرواعظ کی زیر صدارت انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر کا اجلاس
جمعتہ الوداع،شبِ قدر اور عیدالفطرکے سلسلے میں انتظامات کا جائزہ
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر کا ایک اجلاس آج منعقد ہوا جس میں ج±معتہ الوداع،شبِ قدر اور عیدالفطر کے سلسلے میں انتظامات کا جائزہ لیا گیا اور تیاریوں کو حتمی شکل دی گئی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اجلاس کی صدارت کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظِ عمر فاروق نے کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ج±معتہ الوداع 13 مارچ کو ہو گا، کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ اس کے بعد آنے والا جمعہ عیدالفطر کے دن واقع ہو سکتا ہے۔ اجلاس میں ان روحانی اہمیت کے حامل تقریبات کے لیے درکار انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں توقع ظاہرکی گئی کہ تقریباً سات برس کے وقفے کے بعد حکام ان اہم مواقع پر تاریخی جامع مسجد سرینگر میں نمازِ جمعہ اور دیگر دینی اجتماعات کی اجازت دیں گے۔ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ یہ مقدس مواقع اہلِ ایمان کے لیے بے حد دینی و روحانی اہمیت رکھتے ہیں اور ان مواقع پر بڑی تعداد میں لوگ جامع مسجد کا رخ کرتے ہیں۔میرواعظ نے اوقاف کے ارکان، عملے اور رضاکاروں کو ہدایت دی کہ وہ ضروری تیاری کریں اور صفائی ستھرائی اور نمازیوں کی سہولت کے حوالے سے مناسب اقدامات کو یقینی بنائیں۔اجلاس میں کہاگیاکہ ج±معتہ الوداع کے موقع پر میرواعظ کا جامع مسجد سرینگر میں خطاب پونے ایک بجے شروع ہوگا اورہنمازِ جمعہ دوبجکر بیس منٹ پر ادا کی جائے گی۔میرواعظ نے امید ظاہرکی کہ تمام حلقے اس سلسلے میں بھرپور تعاون کریں گے تاکہ یہ اہم مذہبی اجتماعات پرامن، باوقار اور روحانی ماحول میں منعقد ہو سکیں۔






