نئی دلی میں پاک بھارت امن کی نئی بازگشت!
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ
نئی دلی:
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سنٹر فار پیس اینڈ پروگریس کے زیر اہتمام ایک اعلی سطح امن مذاکرات میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی اورپاک بھارت امن کوششوں کو دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا گیا۔او پی شاہ کی زیر صدارت کانفرنس میں بھارت کے سابق سفارتکار منی شنکر آئر، پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری، ریٹائرڈ ایئر وائس مارشل کپل کاک، نیشنل کانفرنس کے رہنما مظفر شاہ، تنویر صادق اوردیگر شخصیات نے شرکت کی۔ خورشید قصوری نے اس موقع پر اپنے خطاب میں دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان دشمنی کے تباہ کن خطرات سے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا کوئی متبادل نہیں ،عوامی رابطوں کو بحال کیاجاناچاہیے اور سیاسی قیادت کو آگے آنا چاہیے۔عوامی نیشنل کانفرنس کے سینئر نائب صدر مظفر شاہ نے دفعہ 370اور 35Aکی بحالی اور مقبوضہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینا مطالبہ دوہرایا۔انہوں نے کہاکہ تنازعے کے حل کیلئے کسی بھی مذاکراتی عمل میں کشمیریوں کو شامل کیاجاناچاہیے۔مانی شنکر آئر نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ان الفاظ "جنگوں کا وقت ختم ہو گیا ہے” کو دہراتے ہوئے کہاکہ انہیں قول و فعل میں تضاد کو دور کرنا چاہیے ۔انہوں نے سیاسی مکالمے اور مفاہمت پر زوردیا۔کپل کاک نے تسلیم کیا کہ بیک چینل ڈپلومیسی ہمیشہ سے جاری ہے اوراب جرات مندانہ سیاسی اقدامات کا وقت آ گیا ہے۔ کانفرنس کے دیگر شرکا میں محمد اشرف قاضی، بینا سرور، سفیر راگھوان، ایم ایم انصاری، سجاد حسین کرگیلی، اور فیروز بخت شامل تھے۔کانفرنس کا اختتام ایک مشترکہ پیغام کے ساتھ ہوا: پاک بھارت کشیدگی کا کوئی فوجی حل نہیں ، صرف پائیدار مذاکرات، سیاسی عزم اور انصاف کے ذریعے ہی خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنا سکتا ہے۔






