میر واعظ مولوی محمد فارو ق اورخواجہ عبدالغنی لون کو انکی شہادت کی برسیوں پر شاندار خراج عقیدت

سرینگر17مئی (کے ایم ایس)
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طورپر نظربند نائب چیئرمین غلام احمد گلزار نے ممتاز کشمیری رہنمائوں میرواعظ مولوی محمد فاروق اور خواجہ عبدالغنی لون کو ان کی شہادت کی برسیوں پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے، جنہیں بھارتی ایجنسیوں کے ایجنٹوں نے بالترتیب21 مئی 1990اور 2002میں اسی دن بے رحمی سے قتل کر دیا تھا ۔
غلام احمد گلزار نے سرینگر سینٹرل جیل سے جاری ایک بیان میں شہدائے حول کوبھی خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری اپنے شہدا میرواعظ مولوی محمد فاروق، خواجہ عبدالغنی لون اور شہدائے حول کی قربانیوں کو ہر گز فراموش نہیں کریں گے جنہیںمئی کے مہینے میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایاگیا ۔انہوں نے تحریک آزادی کشمیرکے تمام شہدا کو سلام اور شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید میرواعظ محمد فاروق ایک عظیم مبلغ اور عالم دین تھے اور پورے میر واعظ خاندان نے اسلام کے پیغام کو عام کرنے کے لیے ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔غلام احمد گلزار نے کہا کہ شہید خواجہ عبدالغنی لون ایک نڈر رہنما تھے جنہوں نے زندگی بھر تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے انتھک جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ جدوجہد آزادی کشمیر کیلئے ان عظیم قائدین کی گرانقدر خدمات ناقابل فراموش ہیں۔انہوں نے کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ شہید رہنمائوں ،شہدائے حول اور جدوجہد آزادی کے دوران بھارتی گولیوں کا نشانہ بننے والے تمام شہداء کے لیے مساجد اور درگاہوں میں دعا اور قرآن خوانی کا اہتمام کریں۔غلام احمد گلزار نے کہا کہ کشمیری شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے مشن کو ہر قیمت پر اسکے منطقی انجام تک جاری رکھا جائے ۔انہوں نے کہاکہ کشمیری شہداء کے خون نے کشمیریوں کی تحریک آزادی میں نیاولولہ پیدا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک لاکھوں کشمیریوں نے بھارتی غلامی سے آزادی کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی شناخت برقرررکھنے کیلئے کوئی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے ۔ غلام گلزار نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوںاور اسکے بدنام زمانہ تحقیقاتی اداروں کی طرف سے جاری کشمیریوں کے قتل عام ، چھاپوں ، تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوں ، انسانی حقو ق کی سنگین پامالیوں ، غیر قانونی گرفتاریوں، ظلم و بربریت کی شدید مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت ان وحشیانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کرسکتی۔ انہوں نے مزیدکہاکہ دیرینہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں امن اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔

ادھرکل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما خواجہ فردوس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے اپنی فوج کو مقبوضہ علاقے میں نہتے کشمیری نوجوانوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ 5اگست 2019 کے مودی حکومت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کے بعد بھارتی فوجی روزانہ کی بنیاد پر نہتے کشمیریوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی شناخت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے ایک طرف تو قابض انتظامیہ نے بڑی تعداد میں غیر کشمیری ہندوئوں کو ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ جاری کئے ہیںاور مسلمانوں ملازمین کو سرکاری ملازمتوں سے برطرف کیا جارہا ہے جبکہ دوسری طرف حلقہ بندی کے نام پر وادی کشمیر کے مقابلے میں ہندو اکثریتی جموں میں اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کیاگیا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: