بھارت میں تیزی سے بڑھتی ہوئی نشے کی لت ، قومی بحران کی شکل اختیار کر گئی
نئی دلی:
بھارت میں نشے کی لت اب کوئی برائی نہیں بلکہ ایک قومی بحران کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ ڈرگ مافیا، سمگلنگ، سیاسی سرپرستی اور سماجی خاموشی یہ سب مل کر نوجوانوں کو اندھیروں میں دھکیل رہے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ڈاکٹر ستیہ وان سوربھ نے اپنی حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ منشیات کی لت اسکولوں سے دیہات تک پھیل چکی ہے۔بھارت میں منشیات کابڑھتا ہوا استعمال نہ صرف صحت بلکہ سوچ اور تہذیب کا بھی بحران ہے۔ بھارت میں منشیات کے استعمال میں مسلسل اضافہ نہ صرف شہری علاقوں بلکہ دیہی علاقوں میں بھی نوجوان نسل کے لیے بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔بھارت میں شراب اور تمباکے استعمال کی آزادی ہے تاہم ان کا غلط استعمال عام ہے۔ شہری و دیہی علاقوں میں شراب نوشی عام ہے ۔اسکے علاوہ ہیرن ، ایون ، چرس ، گانجا اوربھنگ کا بھی مذہبی تہواروں اور ثقافتی تقریبات میں کھلے عام استعمال کیاجاتا ہے۔دلی، ممبئی اور بنگلورو جیسے بڑے شہروں میں کونکین، میتھ اور دیگر نشہ آور اشیاخاص طور پر نوجوانوں میں بہت مقبول ہیں۔بھارت منشیات کی عالمی اسمگلنگ کا مرکز بننے کے علاوہ اسکے استعمال کی دنیا کی سب سے بڑی منڈی بن چکا ہے۔ آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں 2کروڑ 30لاکھ سے زائد افراد منشیات کے عادی ہیں، جو کہ عالمی اوسط سے تین گنا زیادہ ہے۔ بھارت میں بھنگ، ہیروئن اور افیون کے علاوہ میتھی مفیٹامین استعمال کرنے والوں کی تعدادمیں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔شہری اور دیہی علاقوں میں لاکھوں لوگ تیزی سے منشیات کی لت میں مبتلا ہو رہے ہیں اوربھارت میں یہ لت ایک وباکی شکل اختیار کر چکی ہے۔بھارت میں مختلف ادویات کو بھی نشے کیلئے استعمال کیاجاتاہے۔جن سے انسانی صحت بری طرح متاثر اورلوگوں کو سماجی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔منشیات کی لت سے سب سے زیادہ متاثرہ بھارتی ریاستوں میں اترپردیش، پنجاب اور نئی دلی شامل ہیں۔ منشیات کی روک تھام کیلئے عالمی سطح پر کئے جانیوالے اقدام "آپریشن میڈ میکس”میں واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح بھارت کی کمزور نگرانی اور تکنیکی خامیوں کو بین الاقوامی منشیات نیٹ ورکس استعمال کر رہے ہیں۔ بھارت منشیات اور دہشتگردی جیسے سنگین مسائل کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر الزام تراشی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور لاکھوںکی تعداد میں قابض فوجیوں کی تعیناتی سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے اس نے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ مہم تیز کردی ہے۔KMS-11/Y







