مقبوضہ جموں و کشمیر

متحدہ مجلس علما ء کا وادی کشمیر میں مساجد اورامام صاحبان کی پروفائلنگ پر اظہار تشویش

سرینگر:
بھارت کے غیر قانونی طورپر زیر قبضہ جموںوکشمیرمیں اسلامی دینی تنظیموں کے سب سے بڑے اتحادمتحدہ مجلس علماء نے وادی کشمیرمیں مساجد اور امام صاحبان کی پروفائلنگ پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق متحدہ مجلس علماء نے سرینگر میں ایک بیان میں کہاہے کہ بھارتی پولیس کی جانب سے مساجد، ان کی انتظامی کمیٹیوں، امام صاحبان، خطبائ، عبادت گاہوں سے وابستہ دیگر افراد اور ان کے اہل خانہ کے بارے میں انتہائی ذاتی اور حساس نوعیت کی معلومات طلب کی جارہی ہے جس کامعمول کی کسی انتظامی مشق سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ مساجد کمیٹیوں کو جامع ادارہ جاتی اور ذاتی معلومات فراہم کرنے کے لیے متعدد صفحات پر مشتمل تفصیلی فارم پر کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس میں بینک اکائونٹس، زمین کا ریکارڈ، فون اور پاسپورٹ کے علاوہ ، سفری کی تفصیلات سوشل میڈیا اکائونٹس اور موبائل فون پر انسٹال ایپلی کیشنز اورآئی ایم ای آئی نمبرزکی تفصیلات بھی شامل ہیں۔متحدہ مجلس علما نے قابض انتظامیہ کی اس مشق کو مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں براہ راست مداخلت اور مقبوضہ علاقے میں بھارت کی بڑھتی ہوئی نگرانی کی مہم کا حصہ قراردیاہے۔ اس کے علاوہ ان مذہبی اداروں کی نظریاتی یا مسلکی شناخت بھی تفصیلات طلب کی جا رہی ہے۔قابض انتظامیہ کی اس کارروائی نے دینی اداروں، ائمہ مساجد اور عوام میں شدید بے چینی اور اضطراب پیدا کر دیا ہے۔متحدہ مجلس علماء نے قابض انتظامیہ کی اس کارروائی کوبنیادی حقوق، حق رازداری اور شخصی معلومات کے تحفظ سے متعلق آئینی ضمانتوں کی صریحا خلاف ورزی قراردیاہے۔ مساجد عبادت، دینی رہنمائی اور سماجی خدمت کے مقدس مراکز ہیں اور ان کے اندرونی دینی امور کو جبری نگرانی اور مداخلت پر مبنی جانچ پڑتال کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ بیان میں زور دیا گیا کہ مساجد مقدس دینی ادارے ہیں جن کا مقصد عبادت، رہنمائی اور کمیونٹی کی خدمت ہے اور ان کے اندرونی مذہبی معاملات کو جبری نگرانی اور مداخلت پر مبنی جانچ پڑتال کا نشانہ غیر قانونی عمل ہے ۔متحدہ مجلس علما نے بیان میں مزید کہاکہ جس نوعیت اور جس حد تک معلومات طلب کی جا رہی ہیں وہ کسی بھی معمول کے انتظامی تقاضے سے کہیں بڑھ کر ہیں، جس سے قابض انتظامیہ کی نیت کے بارے میں سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں اور ایسالگتا ہے کہ مذہبی اداروں کو جبر اور نگرانی کے ذریعے منظم طور پر کنٹرول کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔ایم ایم یو نے خبردار کیا کہ اس طرح کی مشق کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے کیونکہ مساجد اور دینی شخصیات کو نشانہ بنانے کے قابض انتظامیہ یہ اقدامات غیر منصفانہ، غیراخلاقی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہیں۔متحدہ مجلس علما نے مقبوضہ کشمیر انتظامیہ پر زور دیا کہ اس مہم کو فوری طورپر روکے ، مذہبی اداروں کی خود مختاری کا احترام کرے اور مذہبی آزادی، رازداری اور وقار کی آئینی ضمانتوں کو برقرار رکھے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button