پاکستان

سندھ طاس معاہدہ: جواب دینے کی حتمی مدت گزرنے کے بعد بھی بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار

اسلام آباد:
بھارت نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ خلاف ورزی سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کا حتمی مدت گزرنے کے 100بعد بھی جواب نہیں دیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 16اکتوبر 2025کو اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے ایک رپورٹ جاری کی تھی، جس میں سندھ طاس معاہدے سے متعادم بھارت کے یکطرفہ اقدامات پر سوالات اٹھائے گئے ۔ اس حوالے سے بھارت سے 16 دسمبر 2025تک باضابطہ جواب طلب کیا گیا تھا۔تاہم مقررہ وقت گزرنے کے باوجود بھارت نے نہ تو کوئی تفصیلی جواب دیا اور نہ ہی ان سوالات پر عوامی سطح پر کوئی موقف اختیار کیا۔ڈیڈ لائن گزرنے کے 100دن بعد بھی بھارت کی جانب سے کوئی جواب سامنے نہ آنے پر بین الاقوامی مبصرین نے اس معاملے کو بین الاقوامی قوانین اور جواب دہی سے دوری کی علامت قرار دیا ہے۔ماہرین کے مطابق بھارت کی خاموشی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مسلسل ہٹ دھرمی کی پالیسی پر قائم ہے اور بین الاقوامی قانونی اور انسانی حقوق کے فورمز کے ساتھ مکمل تعاون سے گریز کر رہا ہے۔بھارت کے اس رویے کو ایک عارضی عمل نہیں بلکہ ایک مسلسل پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سوالات کا جواب نہ دینا بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے۔ ثالثی، کثیرالجہتی اور معاہداتی فورمز میں بھارت کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔ سیاسی ترجیحات کو ترجیح دینے سے قانونی اور سفارتی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔بعض حلقوں میں اس خاموشی کو خودمختاری کے دفاع کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستوں پر لازم ہے کہ وہ بین الاقوامی سوالات کا سنجیدگی سے جواب دیں۔ماہرین کے مطابق، اگر یہ خاموشی برقرار رہی تو بین الاقوامی توجہ صرف معاہدے کی خلاف ورزیوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ بھارت کے بین الاقوامی عمل سے دور رہنے کے رجحان پر بھی مرکوز ہو جائے گی۔اگرچہ فوری طور پر اس حکمت عملی سے بھارت کو اندرونی سطح پر فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں اس کے نتیجے میں ساکھ کو نقصان اور معاہداتی نظام کی کمزوری جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button