منی پور کی امپھال وادی میں ہڑتال سے معمولات زندگی مفلوج

امپھال:شورش زدہ بھارتی ریاست منی پور کی امپھال وادی میں ہڑتال کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ 48 گھنٹے کی عام ہڑتال کی کال ایک ہندو تنظیم نے دی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انتظامیہ نے امپھال سے تقریباً 80 کلومیٹر دور ضلع اکھرول میں ایک میلے کی کوریج کے لیے جانے والے صحافیوں کی بس پر لکھے ’منی پور اسٹیٹ ٹرانسپورٹ‘ کے الفاظ چھپانے کی ہدایت کی تھی تاکہ بس کو علاقے میں رہنے والے کوکی (عیسائی ) قبائل کے حملے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ میتی(ہندو) قبائل نے انتظامیہ کے اس اقدام پر سخت اعتراض کیا اور اسکے خلاف ہڑتال کی کال دی۔
سینکڑوں ہندو مظاہرین ہڑتال کو نافذ کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ اس کے نتیجے میں تمام گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں اور وادی میں دکانیں، بازار اور دیگر تجارتی ادارے، تعلیمی ادارے اور سرکاری و نجی دفاتر بند رہے۔تاہم وادی امپھال کے ارد گرد کوکی اور ناگا آباد پہاڑیوں پر ہڑتال کا کوئی اثر نہیں ہوا۔
یادر ہے کہ منی پورہ میں مئی 2023سے میتی (ہندو) اور کوکی(عیسائی) قبائل کے درمیان جاری کشیدگی کے سبب اب تک ڈھائی سو کے لگ بھگ افراد ہلاک جبکہ ساٹھ ہزار سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔







