بھارت

مسلم مبلغین کی طرح مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریرکی نگرانی کیوں نہیں کی جاتی: اسدالین اویسی

asad din owaisiحیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے ایران پر اسرائیل اورامریکہ کے حملے کے تناظر میں ریاستوں کو ایران نواز مبلغین کی نگرانی کرنے کی ہدایت پر بھارتی حکومت کے دوہرے معیار کی مذمت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریرکی اسی طرح نگرانی کیوں نہیں کی جاتی؟
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اسدالدین اویسی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ ہدایت امن عامہ سے متعلق خدشات کے حوالے سے مودی حکومت کے متعصبانہ طرز عمل کوظاہر کرتی ہے اور اسے مودی حکومت کا دوہرا معیار بے نقاب ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہیک بابا (ہندو پجاری) نے بار بار اپنی ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے اورلوگوں کوکھلے عام مسلمانوں کے خلاف نسل کشی پر اکسایا ہے۔ مرکزی حکومت نے خود ایک کانفرنس کی مالی اعانت کیجس میںبھارت کے آئین کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان واقعات میں اس طرح کی پھرتیکیوں نہیں دکھائی گئی۔اویسی نے بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ خاص طور پر 2023 میں غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں نسل کشی کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ ہوا ہے۔ ابھی تک مسلم مخالف نفرت انگیز تقاریر کو روکنے کے لیے کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی ہے۔ ایسے معاملات میں مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ امن و امان ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔اویسی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب بھارتی وزارت داخلہ نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت کی کہ وہ ایران نوازمبلغین پر جو اشتعال انگیز بیانات دیتے ہیں، نظر رکھیں جو ممکنہ طور پر تشدد کو ہوا دے سکتے ہیں۔ یہ ایڈوائزری اس وقت جاری کی گئی جب بھارت کے مختلف حصوں میں مسلمانوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button