مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں لیفتننٹ گورنر کو مزید اختیارات تفویض کئے

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت نے منتخب حکومت کے اختیارات کو مزید کم کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو مزید اختیارات دیے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے صدر نے مقبوضہ جموں وکشمیرکے لیفٹیننٹ گورنر کو ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 2023 کے سیکشن 20(2) کے تحت ریاستی حکومت کے اختیارات استعمال کرنے کا اختیار دیا ہے۔ اس شق کے تحت بھارتی حکومت، ریاستی حکومت یا کسی بھی مجاز اتھارٹی کوبھارت کی خودمختاری ، سالمیت، دفاع اور سلامتی جبکہ دیگر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور امن عامہ کو برقراررکھنے اورجرائم کی روک تھام کے لئے ٹیلی مواصلات کی سروسز پر پابندی عائد کرنے کی اجازت حاصل ہے۔ان اختیارات میں کالز اور میسجز کی روک تھام، مواصلات کی نگرانی، ٹیلی کام سروسز کی معطلی اور ہنگامی صورتحال کے دوران یا عوامی مفاد میں ٹرانسمیشنز کو روکنا شامل ہیں۔2019 میں نام نہاد جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ کے نفاذ کے بعد یہ دوسری بار ہے جب بھارتی حکومت نے سیکورٹی خدشات کی آڑ میں منتخب حکومت کے اختیارات سلب کر لیے ہیں۔ متنازعہ تنظیم نو ایکٹ کے تحت مقبوضہ علاقے میں امن و امان جس میںقومی سلامتی کے معاملات شامل ہیں، پہلے ہی منتخب حکومت کے دائرہ اختیار سے باہرہے اورمقبوضہ علاقے کی پولیس براہ راست لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر کو رپورٹ کرتی ہے۔، فری اسپیچ کلیکٹو کی ایک ممتاز کارکن گیتا سیشونے کہا کہ تازہ ترین نوٹیفکیشن عمر عبداللہ کی زیرقیادت حکومت کی توہین ہے اور اس سے لیفٹننٹ گورنر مزید با اختیار بن جائے گا۔ انہوں نے کہا ٹیلی کام ایکٹ کے تحت مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ افسران کو ٹیلی کام خدمات کا کنٹرول سنبھالنے کا اختیار دیں لیکن اس سے جموں و کشمیر کی (منتخب) حکومت کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔سیاسی مبصرین نے کہا کہ اس اقدام سے ایک بار پھرواضح ہوگیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں منتخب حکومت کی محض علامتی نوعیت ہے جہاں کلیدی انتظامی، سیکورٹی اور گورننس کے اختیارات لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے نئی دہلی کے کنٹرول میںہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک منتخب حکومت کی تشکیل کے باوجود بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی انتظامیہ نے غیرمنتخب لیفٹننٹ گورنرکو مزید اختیارات دےے ہیں جس سے مقامی سیاسی قیادت کے کردار کو مزید کم کرکے محض علامتی کردیاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تازہ ترین پیش رفت 5 اگست 2019 کو علاقے کی خصوصی حیثیت کی یکطرفہ طور پر منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیرپر انتظامی اور سیاسی کنٹرول کو مزید سخت کرنے کی نئی دہلی کی وسیع پالیسی کا حصہ ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button