مودی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیرکو موجودہ دور کے کربلا میں تبدیل کر دیا ہے، رپورٹ

سرینگر09اگست ( کے ایم ایس )
نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کو موجودہ دور کے کربلا میں تبدیل کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مودی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں لوگوں کو محرم الحرام کے جلوس نکالنے اور کربلا میں شہید ہونے والے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو خراج تحسین پیش کرنے سے روکنے کے لیے سخت پابندیاں عائد کردی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کشمیریوں کے لیے وقت کا یزید ہے اور بھارت بے گناہ کشمیریوںکو ناقابل بیان مشکلات و مصائب میں مبتلا کر کے جدید یزیدی عہد حکومت بن کر ابھرا ہے۔رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ مظلوم کشمیریوں کیلئے ہر دن عاشورہ ہے اور ہر مقبوضہ علاقے کا ہر مقام کربلا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بہادر کشمیری آزادی کی راہ میں عظیم قربانیاں دے کر کربلا کے جذبے کو زندہ کر رہے ہیںاور مقبوضہ علاقے میں مودی کی ہندوتوا پالیسیوں کے خلاف کھڑے ہونے والے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پرچم بردار ہیں جبکہ کشمیریوں نے کربلا سے ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا سیکھا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارت کے ساتھ تعاون کرنے والے یزید کے ساتھی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیری بھارتی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کے لیے واقعہ کربلا سے حوصلہ حاصل کرتے رہیں گے۔ کے ایم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ظلم کے خلاف کشمیریوں کی جدوجہد کربلا کی جنگ کا تسلسل ہے اور بھارتی جبرو استبداد کے خلاف ثابت قدم رہنما کشمیریوں کے لیے کربلا کا پیغام ہے۔ برپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی کربلا میں پیش کی جانے والی قربانیاں کشمیریوں کو بھارتی جبر سے لڑنے کے لیے ایک مضبوط اخلاقی حوصلہ دیتی ہیں اور آزادی کے مقدس مقصد کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے کشمیری امام حسین رضی اللہ عنہ کے حقیقی پیروکار ہیں۔ رپورٹ میں کہا کہ کشمیری بھارتی ظلم و جبر کے آگے چٹا ن کی مانند کھڑے ہیں اور یوں کربلا کی یادیں تازہ کر رہے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموںوکشمیر میں محرم کے جلوسوں میں آزادی کے حق میں نعرے سچے حسینی کردار کا مظہرہے اور کشمیری امام حسین کے راستے پر چلتے ہوئے بھارت کے سرکش منصوبوں کو شکست فاش دیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: