مقبوضہ جموں وکشمیرمیں پوسٹرچسپاں،لوگوں سے بھارتی یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کی اپیل

ppasسرینگر14اگست(کے ایم ایس) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر پوسٹرچسپاں کئے گئے ہیں جن میں لوگوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ 15اگست کوبھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منائیں۔
مختلف علاقوں میں پوسٹرچسپاں کرنے کا مقصد اکتوبر 1947سے مادر وطن پر بھارت کے غیر قانونی قبضے اور 5 اگست 2019 کو مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کے غیر قانونی اور ظالمانہ اقدامات کے خلاف احتجاج درج کرنا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، میر واعظ عمر فاروق، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی اور مشتاق الاسلام سمیت مزاحمتی رہنمائوں کی تصاویر والے پوسٹروں میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرکے عوام بھارت کے غیر قانونی اور فوجی قبضے کو مسترد کر تے ہیں اور غیر قانونی طور پر نظر بند تمام کشمیری سیاسی رہنمائوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔پوسٹروں میں کہا گیاہے کہ بھارت نے کشمیریوں کی مرضی کے خلاف جموں و کشمیر پر قبضہ کررکھا ہے اور کشمیری بھارتی تسلط سے مکمل آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔پوسٹروںپر” بھارت کا یوم آزادی ہمارے لئے یوم سیاہ ہے”، ”ہم آزادی چاہتے ہیں” اور” ہم بھارت کے یوم آزادی کو مسترد کرتے ہیں” جیسے نعرے درج ہیں۔ کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیابھر میں مقیم کشمیری پیر کو یوم سیاہ منانے کے لیے تیار ہیں تاکہ جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی اور جبری قبضے پر اپنی شدید ناراضگی اور برہمی کا اظہار کیا جا سکے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: