بھارتی سپریم کورٹ آسام کے وزیر اعلیٰ کیخلاف عرضداشت کی سماعت کرے گی

نئی دلی: بھارت میں بائیں بازو کی جماعتوں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ نے سپریم کورٹ میں ایک عرضداشت دائر کر دی ہے جس میں بی جے پی سے وابستہ ریاست آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسواسرما کیخلاف انکی ایک اشتعال انگیز ویڈیو پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سی پی آئی ایم اور سی پی آئی کے وکیل نظام پاشا کی فوری مداخلت کی اپیل پر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت ، جسٹس جوئے مالیہ ہاگچی اور جسٹس این وی انجاریا نے معاملے کی سماعت کی ۔ پاشا نے تین رکنی بنچ کو بتایا کہ درخواست گزاروں نے ویڈیو کے حوالے سے شکایات درج کرائی تھی لیکن اب تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی لہذا ہم عدالت سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسام کے وزیر اعلیٰ نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ویڈیو میں انہیں مسلم کمیونٹی کے افراد کا بندوق سے نشانہ لیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے ۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر کہا کہ سپریم اس معاملے کو دیکھے گی اور سماعت کی تاریخ مقرر کرے گی






