مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارت کشمیریوں کو اپنا محتاج بنانے کے لئے وادی کشمیر میں زرعی زمین کو غیر زرعی مقاصد کے لئے استعمال کررہا ہے

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں زرعی اراضی کے تیزی سے رہائشی کالونیوں، کاروباری مقاصد، ریلوے لائنوں اور دیگر غیر زرعی استعمال سے خطے کا غذائی تحفظ بری طرح متاثر ہوا ہے اور علاقے کو بھارتی چاول اور دیگر غذائی اجناس پر بڑھتے ہوئے انحصار کی طرف دھکیل دیا گیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ وادی کشمیرنے 1996اور 2023کے درمیان تقریبا 34,000ہیکٹر قابل کاشت زمین کھو دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تشویشناک رحجان ہے۔ سکڑتی ہوئی زرعی اراضی سے ایک ایسے وقت میں مقامی خوراک کی پیداوار میں زبردست کمی ہوئی ہے جب آبادی میں اضافہ اور زرعی اجناس کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کو اب تقریبا 0.89 ملین ٹن غذائی اجناس کی مجموعی کمی کا سامنا ہے اوروہ پنجاب، ہریانہ اور دیگربھارتی ریاستوں سے سپلائی پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔ علاقہ 1.34 ملین ٹن کی ضرورت کے مقابلے میں صرف 0.45ملین ٹن غذائی اجناس پیدا کرتا ہے اور 0.89ملین ٹن کی کمی کا سامنا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ کمی اگلے سال تک 36فیصد تک پہنچ سکتی ہے اور 2030تک یہ 50فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے۔وادی کشمیر کے کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دھان کے زرخیز کھیتوں کو سال بہ سال ختم ہوتے دیکھ رہے ہیں۔پلوامہ کے ایک کسان عبدالرشید نے بتایاکہ ہم پورے خاندان کے لیے چاول کاشت کرتے تھے اور کچھ اگلے سیزن کے لیے بھی ذخیرہ کرتے تھے۔ اب ہمارے گائوں کے اردگرد کی آدھی زمین ہائوسنگ کالونیوں اور دیگر غیر زرعی مقاصد میں تبدیل ہو چکی ہے۔کئی کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ زرعی اراضی کی غیر منظم تبدیلی، کھیتی باڑی کے لیے ناکافی مراعات اور روایتی زراعت کو جاری رکھنے سے لوگوں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ قابض حکومت زرعی زمین کے غیر زرعی استعمال کی حوصلہ افزائی کررہی ہے اوربڑے بڑے زرعی رقبے بلا ضرورت ریلوے لائنوں سمیت مختلف سرکاری منصوبوں کے لئے مختص کئے جاتے ہیں۔زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس رجحان کو روکا نہ گیاتو کھیتی باڑی میں کمی کے سنگین طویل مدتی نتائج ہوں گے۔ ایک زرعی ماہر نے کہا کہ جموں و کشمیر سے خوراک کی خود کفالت تشویشناک رفتار سے کم ہوتی جارہی ہے۔انہوں نے کہااگر تین دہائیوں سے بھی کم عرصے میں زرعی اراضی کے 34,000ہیکٹر ختم ہوئے ہیں تو تصور کریں کہ اگلے 20سالوں میں صورتحال کیسی ہو گی؟ ماہرین نے زرعی زمین کے استعمال کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرنے، زیادہ پیداوار دینے والی چاول کی اقسام کو فروغ دینے اور وادی کی زرخیز زمین کی حفاظت کے لیے کسانوں کو مراعات دینے پر زور دیا۔محکمہ زراعت کے افسران نے اعتراف کیاہے کہ تیزی سے شہر کاری نے کھیتی باڑی کی کمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک عہدیدارنے بتایاکہ اگرچہ قابل کاشت زمین کی تبدیلی کو روکنے کے لیے قوانین موجود ہیں لیکن نفاذ میں سستی کی وجہ سے خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2022میں نئے قوانین کے تحت کاشتکاروںکو زرعی اراضی کے تجارتی یا صنعتی استعمال کی اجازت دی گئی۔مقامی پیداوار خطے کی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہونے کی وجہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر ہر سال بڑی مقدار میں چاول درآمد کرتا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر گھرانہ بھارت کے راشن پر منحصر ہے۔ اگر سڑک کارابطہ کچھ دنوں کے لیے بھی متاثر ہوتا ہے تو قیمتیں فوری طور پر بڑھ جاتی ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا خوراک کا نظام کتنا نازک ہو چکا ہے۔ماہرین، کسان اور سول سوسائٹی کے گروپ اس بات پر متفق ہیں کہ باقی ماندہ زرعی زمین کی حفاظت بہت ضروری ہے۔ بہت سے لوگ قابض حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ زرعی زمین کی غیر قانونی تبدیلی کے خلاف قانون کے نفاذ کو یقینی بنائے اور کسانوں کے لیے بہتر معاشی امکانات پیدا کرے تاکہ زرعی زمین کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر ہم اسی رفتار سے زرعی زمین کھوتے رہے تو آنے والی نسلوں کے پاس کاشتکاری کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔ زراعت ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریڑھ کی ہڈی رہی ہے لیکن اب یہ کمزور ہوتی جا رہی ہے اوربھارتی حکومت کشمیریوں کو اپنا محتاج بنانے کے لئے اس پر کوئی توجہ نہیں دے رہی بلکہ اس رحجان کی حوصلہ افزائی کررہی ہے ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button