بھارتی مسلح افواج میں خواتین اہلکاروں کو محض جنسی شے سمجھا جاتاہے: رپورٹ

women officerاسلام آباد 03 اکتوبر (کے ایم ایس) بھارتی مسلح افواج کی اخلاقیات اور اقدار کی بات آتی ہے تو یہ الفاظ اپنے معنی کھو دیتے ہیں یہاں تک کہ بھارتی مسلح افواج کی خاتون افسران بھی اخلاقی طور پر کرپٹ اپنے اعلیٰ افسران کی جنسی ہراسانی سے محفوظ نہیں ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی مسلح افواج میں خواتین افسران کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا کلچرعام ہے اور حال ہی میں بھارتی فضائیہ کے ایک افسر فلائٹ لیفٹیننٹ امیتیش ہرمکھ کو بھارت کے شہر کوئمبٹور میں ایک خاتون ساتھی کی عصمت دری کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فضائیہ کے افسر فلائٹ لیفٹیننٹ امیتیش کی گرفتاری ایک خاتون ساتھی کی جانب سے درج عصمت دری کی شکایت پر عمل میں آئی ۔ خاتون افسر نے کہا کہ اس کے سینئر افسران نے اس پر دباو¿ ڈالا کہ وہ اپنی شکایت واپس لے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دسمبر 2020 میں بھارتی ریاست اتر پردیش میں بھارتی فوج کے ایک کرنل کے خلاف بھی اپنے دوست کی بیوی کے ساتھ زیادتی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔بھارتی مسلح افواج کے پاس جنسی ہراسانی سے نمٹنے کے لئے کوئی خاص دفعات موجود نہیں ہیں اور جنسی زیادتی کے متاثرین کو بھارتی مسلح افواج کے اندر بہت کم انصاف ملتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کوئمبٹور میں بھارتی فضائیہ کے ایڈمنسٹریٹو کالج میں عصمت دری کے تازہ ترین واقعے سے ان رپورٹوں کی تصدیق ہوتی ہے کہ بھارتی مسلح افواج میں خواتین اہلکاروں کو محض ایک جنسی شے سمجھا جاتاہے۔رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیاگیا کہ بھارتی مسلح افواج کے ہاتھوں جنسی ہراسانی کی وجہ سے کشمیری خواتین کو ختم نہ ہونے والے صدمے کی اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جنوری 1989 سے اب تک بھارتی فورسز کی طرف سے خواتین کی بے حرمتی اور بدسلوکی کے 11ہزار246 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز جان بوجھ کر کشمیری خواتین کو نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف جاری جدوجہدآزادی کو دبایا جا سکے۔ بھارتی فورسز کشمیریوں کی تذلیل اور انہیں ڈرانے دھمکانے کے لیے عصمت دری کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: