جی 20ممالک کے اعتراض کے بعدبھارت کا سربراہی اجلاس سرینگر سے دہلی منتقل کرنے کا امکان

سرینگر 04جولائی (کے ایم ایس)پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں G-20کے کچھ ممالک کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کے پیش نظر G-20سربراہی اجلاس کا مقام پہلے سے اعلان کردہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے نئی دہلی منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اگرچہ مودی حکومت نے ابھی تک اس پیش رفت کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں کہاگیا ہے کہ دہلی کے پریگتی میدان میں اہم انفراسٹرکچر تعمیر کیا جا رہا ہے۔مودی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیرکے متنازعہ علاقے میں تقریب کی میزبانی کے اعلان سے سفارتی کشیدگی پیداہوگئی تھی کیونکہ چین سمیت کچھ اہم G-20ممالک نے اس تجویز کی حمایت نہیں کی۔ چنئی سے شائع ہونے والے روزنامے ”دی ہندو” نے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہاتوقع ہے کہ بھارت دہلی میں G-20سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا جبکہ متعدد ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ دسمبر 2022سے نومبر 2023تک بھارت کی G-20صدارت کے دوران ہونے والے تقریبا100 اجلاسوں کے لیے جگہیں تجویز کریں۔بیس سربراہان مملکت اور ہزاروں عہدیداروں اور مندوبین کی رہائش کے لیے کانفرنس ہالز اور نئے ہوٹلوں کی تعمیر پہلے سے ہی جاری ہے جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے رواں ماہ تقریبا 1,000کروڑ روپے کی لاگت سے انٹیگریٹڈ ٹرانزٹ کوریڈور پروجیکٹ کا افتتاح کیا تاکہ پریگتی میدان ہیڈ کوارٹر کودیگر اہم اداروں کے ساتھ جوڑاجائے ۔ اس اعلان کے ایک دن کے اندراندرپاکستان نے سخت رد عمل کا اظہار کیا اور اعلان کیا کہ وہ G-20کے اراکین سے اس مقام کو مسترد کرنے کے لیے رجوع کرے گا۔ جلد ہی چین نے بھی متنازعہ جموں و کشمیر میں G-20 اجلاس کے انعقاد کی مخالفت کی۔دی ہندو نے رپورٹ کیا کہ جموں و کشمیر کے پرنسپل سکریٹری منوج کمار دویدی کی طرف سے جاری کردہ خط کے میڈیا میں شائع ہونے کے بعدابہام پیداہوگیا جس میں 23جون کو G-20اجلاسوں کے جموں و کشمیر میں انعقاد کے لیے 5رکنی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی گئی تھی۔ اس کے بعد لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے G-20سربراہی اجلاس کی میزبانی کو قابل فخرقراردیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: