انورادھا بھسین کی نئی کتاب میں اگست2019کے بعد مقبوضہ کشمیر میں ظلم وتشدد کی ان کہی داستان بیان کی گئی ہے

نئی دلی 08 دسمبر (کے ایم ایس)
جموں سے تعلق رکھنے والی معروف صحافی اور کشمیر ٹائمزکی ایڈیٹر انورادھا بھسین نے اپنی نئی تصنیف میں مقبوضہ کشمیر میں 5اگست 2019کو جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد پیش آنے والے واقعات اور ظلم و تشدد کی ان کہی داستانوں کو بیان کیا ہے۔

"A Dismantled State”کے عنوان سے کتاب میںدفعہ 370اور 35Aکی منسوخی کے بعدوادی کشمیر میںرونما ہونے والے واقعات کو سمجھنے کیلئے بہت سے عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کئے گئے ہیں ۔ یہ کتاب 28 دسمبر کو منظر عام پر آئے گی۔ دفعہ370اور 35Aکی منسوخی کے بعد کئی مہینوں تک مقبوضہ علاقے میں انٹرنیٹ سروسز معطل اور بھارتی فوجیوں کی بڑی تعداد میں موجودگی کی وجہ سے وادی کشمیر میں رونماہونے والے واقعات کے بارے میں اطلاعات اور خبریں رپورٹ نہیں ہو سکی تھیں۔دفعہ370کی منسوخی اور جموں و کشمیر میں اس کے نتیجے میں ہونے والے واقعات نے نہ صرف مقبوضہ علاقے کے سماجی سیاسی اور معاشی منظر نامے کو تبدیل کر دیا بلکہ سرکاری بیانہ کے خلاف کسی بھی خبرکو مقبوضہ سے باہر نہیں آنے دیاگیا۔ یہ کتاب کشمیر سے متعلق پھیلائی جانیوالی غلط معلومات کی روک تھام اور سچ کو سامنے لانے کی ایک کوشش ہے ۔ انورادھا بھسین نے ایک بیان میں کہاکہ انہیں امید ہے کہ اس کتاب کے ذریعے یہ سمجھنے میںمدد ملے گی کہ5اگست 2019کے بعد کے واقعات سے کس طرح کشمیریوں کی زندگیاں متاثر ہوئی ہیں اور جنوبی ایشیا کو ایک خطرناک بھنور کی طرف دھکیل دیاگیا ہے۔انورادھا بھسین نے اپنی اس تصنیف کے ذریعے کشمیریوں کا سچ سامنے لانے کی کوشش کی

Leave a Reply

%d bloggers like this: