مقبوضہ کشمیر : چینی شہری کی گرفتاری کے بعد غیر ملکی سیاحوں کی جانچ پڑتال مزید سخت
چینی سیاح کا موبائل فون فرانزک تجزیہ کیلئے بھجوادیاگیا
سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ایک چینی سیاح کی گرفتاری کے بعد بھارتی پولیس نے غیر ملکی سیاحوں کی جانچ پڑتال اور انہیں سہولیات فراہم کرنے والے مقامی لوگوں پر پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی پولیس نے ویزہ شرائط کی خلاف ورزی پر گرفتار کئے گئے چینی سیاح سے منگل کو مسلسل دوسرے دن بھی تفتیش جاری رکھی اور اس کے موبائل فون کو فرانزک تجزیہ کیلئے بھجوادیاگیاہے۔چینی شہری کو مبینہ طورپر اگست 2019میں دفعہ 370کی منسوخی کے حوالے سے آن لائن سرچ کرنے پر گرفتار کیاگیاہے ۔ پولیس ٹیموں نے ہوٹلوں ،گیسٹ ہائوسز اورہائوس بوٹس میں مہمانوں کے اندراج اورامیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ سے متعلق فارم-سی کے ریکارڈ کی جانچ شروع کر دی ہے۔ قابض انتظامیہ کے اس اقدام سے مقامی لوگوں میں شدید خوف پیدا ہو گیا ہے ۔ ان کاکہنا ہے کہ قابض انتظامیہ کے اس جابرانہ اقدام کا مقصد غیر ملکی سیاحوں کو ڈرانا اور مقبوضہ علاقے کا رخ نہ کرنے پر مجبور کرنا ہے ۔ٹورازم آپریٹرز کا کہنا ہے کہ قابض انتظامیہ کی مہم کامقصد غیر ملکی سیاحوں کی حوصلہ شکنی کرنا اور انہیںمقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال ، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اوروہاں موجود گھٹن کے ماحول کا مشاہدہ کرنے سے روکنا ہے ۔انہوں نے خبردار کہاکہ مودی حکومت سیاحت پر مبنی مقبوضہ کشمیر کی مفلوک الحال معیشت کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہناہے کہ بھارت چین، ایران اور نئی دلی سے کشیدہ تعلقات رکھنے والے دیگر ممالک کے سیاحوں کو ممکنہ خطرے کے طورپر پیش کر کے انتقامی کارروائی کا نشانہ بنارہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس اقدام کا مقصد مقبوضہ علاقے کی حقیقی زمینی صورتحال کو بیرونی دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنا بھی ہے ۔
واضح رہے کہ بھارتی پولیس نے غیر ملکی سیاحوں کے قیام کی اطلاع نہ دینے پر سرینگر میں متعدد ہوٹلوں، ہائوس بوٹس اور گیسٹ ہائوسز کے خلاف مقدمات درج کئے ہیں۔








