نئی دلی:” انڈین یوتھ کانگریس “کے کارکنوں کا مصنوعی ذہانت اجلاس کے مقام پر احتجاجی مظاہرہ

نئی دلی:بھارت میں ”انڈین یوتھ کانگریس“ (آئی وائی سی) کے ارکان نے مصنوعی ذہانت کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے اجلاس کے دوران احتجاج کیا اور بیروزگاری ، مہنگائی اور بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ پر وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف نعرے لگائے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق یوتھ کانگریس کے کارکنوں نے اپنی شرٹس اتار دیں اور نعرے لگائے ۔ احتجاجی کارکن اجلاس بورڈ کے سامنے کھڑے ہوگئے تاہم وہاں تعینات سیکورٹی عملے نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے انہیں حراست میں لیا ۔ حراست میں لیے گئے کارکنوں کو پوچھ گچھ کیلئے تلک مارگ تھانے منتقل کیا گیا۔ یوتھ کانگریس کے کارکنوںنے بعد ازاں اپنے احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز ایکس ہینڈل پر اپ لوڈ کیں اور ایک بیان میںکہا کہ اس احتجاجی مظاہرے کا مقصد ان اندیشوںکو اجاگر کرنا تھا کہ کارپوریٹ مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دی جا رہی ہے اور حکومت کی بیرونی پالیسی کمزور ہو چکی ہے ۔ بیان میں کہا گیا یہ احتجاج بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بیروزگاری جیسے مسائل کے خلاف بھی تھا، ملک کے نوجوان دن بہ دن مایوس ہوتے جا رہے ہیں ۔
کانگریس نے بھی اپنے ایکس ہنڈل پرایک بیان میں کہا کہ ”آج یوتھ کانگریس کے کامریڈس نے نوجوانوں ، کسانوں اور تاجروں کی برہمی کا احتجاج کی شکل میں اظہار کیا ، نریندر مودی نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کرتے ہوئے ہمارے نوجوانوں ، کسانوں اور تاجروں کے مفادات پر حملہ کیا ہے ، مودی نے بھارت کو امریکہ کے پاس گروی رکھ دیا ہے اور وہ مکمل طورپر گھٹنے ٹیک چکے ہیں۔مصنوعی ذہانت کے ممکنہ اثرات کے حوالے پانچ روزہ اجلاس گزشتہ روز ختم ہوا۔ اجلاس میں کم از کم بیس ملکوں کی اعلیٰ شخصیات شریک تھیں۔جلاس کے دوران سب سے منفرد تنازعہ ایک روبوٹ کتے پر پیدا ہوا۔ ایک نجی یونیورسٹی کو اس وقت اپنا سٹال خالی کرنے پر مجبور ہونا پڑا، جب یہ بات سامنے آئی کہ یونیورسٹی نے ایک چینی ساختہ روبوٹ کتے کو اپنی ایجاد قرار دیا ہے۔






