بھارت کا بڑھتا ہوا میزائل پروگرام خطے کیلئے سنگین تشویش کا باعث

نئی دہلی:بھارت کے بڑھتے ہوئے میزائل پروگرام نے جنوبی ایشیا میں سٹریٹجک توازن کو بگاڑ دیا ہے ، اسکی جارحانہ میزائل سازی پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارت اپنی میزائل صلاحیتوں میں کئی اہم تبدیلیاں کر چکا ہے ۔ ا س نے اگنی-V میزائل میں ایسی جدید ٹیکنالوجی استعمال کی ہے جس سے یہ میزائل بیک وقت کئی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ جو علاقائی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ وہ 10ہزار کلو میٹر تک مارکرنے والے اگنی-VI پر تیزی سے کام کر رہا ہے جو اسے ایک بین البراعظمی طاقت بنا دے گا۔وہ آواز سے پانچ گنا زیادہ تیز رفتار ہائپرسانک میزائل کے تجربات کر رہا ہے۔بھارت کی جانب سے میزائل صلاحیت میں اضافہ علاقائی طاقت کے توازن کو کمزور کر رہا ہے، بھارت کے یہ اقدامات پاکستان کے لیے اپنے دفاعی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی دفاعی منصوبہ بندی میں مستقل ناکامیوں (جیسے برہموس کی غلط فائرنگ) کے باوجود جدید جوہری ٹیکنالوجی کا حصول عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔پاکستان بھارت کے ان جارحانہ اقدامات کے ردعمل میں اپنے دفاعی نظام کو جدید بنانے پر توجہ دے رہا ہے تاکہ علاقائی توازن برقرار رکھا جا سکے ۔
بھارتی حکومت نے رواں برس 27مارچ کو 25 بلین ڈالر مالیت کے دفاعی ساز و سامان کی خریداری کرنے کی منظوری دے دی۔اس خطیر رقم سے روسی ساختہ S-400 ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم، مختلف اقسام کے طیارے اور آرٹلری (توپ خانہ) سسٹم خریدے جائیں گے۔ بھارتی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ ان منظوریوں میں اضافی روسی S-400 ٹرائمف سسٹم، سوویت دور کے پرانے An-32 اور Il-76 طیاروں کی جگہ نئے ٹرانسپورٹ طیارے اور مختلف ا?رٹلری سسٹم شامل ہیں۔ وزارت نے مزید بتایا کہ ان خریداریوں میں فوج کے لیے ٹینک شکن گولہ بارود ، گن سسٹم اور فضائی نگرانی کے نظام، فضائیہ کے زیرِ استعمال Su-30 لڑاکا طیاروں کی اپ گریڈیشن اور کوسٹ گارڈ کے لیے ہوور کرافٹ بھی شامل ہیں۔ یہ سب بھارت کے جنگی جنون اور خطے پر اپنی بالا دستی قائم کرنے کے اسکے مذموم ارادے کا پتہ دیتاہے۔
گزشتہ برس 10مئی کو پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی ”بدترین شکست“ کے بعد سے مودی حکومت نے دفاعی بجٹ میں تاریخی اضافہ کیا، جس سے خطّے میں بڑھتی عسکریت پسندی کو مزید ہوا ملی ہے۔ بھارتی حکومت رواں سال دفاع پر 85.4 ارب ڈالر خرچ کرے گی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت میں کم ازکم تیس تا چالیس کروڑ لوگ غربت کی لکیر تلے زندگی گذار رہے ہیں لیکن مودی حکومت ان کروڑوں لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے کے بجائے کھربوں روپے ہتھیار خریدنے پہ خرچ کر رہی ہے جو افسوسناک ہے۔







