ممبئی ہائی کورٹ نے2006کے ٹرین دھماکوں میں سزا پانے والے تمام 12مسلمانوں کو بے گنا ہ قرار د یدیا
نئی دلی:
مبئی ہائی کورٹ نے 2006میں ممبئی لوکل ٹرین میں دھماکوں کے مقدمہ میں سزا پانے والے تمام 12 مسلم ملزمان کو بے گنا ہ قرار دیکر بری کر دیا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق11جولائی 2006کو ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں 11منٹ کے وقفے سے 7 دھماکے ہوئے تھے جن کے نتیجہ میں 189 افراد ہلاک اور 824زخمی ہوگئے تھے۔بھارتی حکام نے ان دھماکوں کو بھی پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈہ کیلئے استعمال کیا اور بغیر تحقیقات کے فوری طور پر 13پاکستانی شہریوں سمیت 30افراد کو ملزم قرار دے دیاتھا ۔ ان دھماکوں کو جواز بنا کر بھارت نے پاکستان کے ساتھ امن مذاکرات بھی معطل کر دیئے تھے۔بی بی سی اور بھارتی میڈیاکی رپورٹوں کے مطابق دھماکے ٹرین کے فرسٹ کلاس ڈبوں میں رکھے گئے پریشر ککر بموں کے ذریعے کئے گئے تھے۔اس مقدمے میں مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائمز ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے ستمبر 2015میں 12مسلمانوں کو مجرم قرار دیا تھا۔ خصوصی عدالت نے 5 مجرمان کو سزائے موت جبکہ دیگر 7 کو عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔خصوصی عدالت کے اس فیصلے کے تقریبا ایک دہائی بعدممبئی ہائی کورٹ نے اس مقدمے میں سزا پانے والے تمام 12مسلم افراد کو بری کر دیا ہے۔ہائیکورٹ کے جسٹس انیل کلور اور جسٹس شیام چندک پر مشتمل بینچ نے اپنے فیصلے میں واضح الفاظ میں کہا ہے کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف مقدمہ ثابت کرنے میں بری طرح ناکام رہا، لہذا سزا کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔عدالت نے تمام افراد کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا ۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ جن لوگوں کی گواہی کی بنیاد پر ملزمان کو سزا دی گئی تھی انہوں نے اس کے فورا بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کا انکشاف کیا تھا۔ سپیشل مہاراشٹرا کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ کے جج یتن ڈی شندے نے اپنے فیصلہ میں جن مسلمان ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی ان میں فیصل عطا الرحمن شیخ، آصف خان، کمال انصاری، احتشام قطب الدین صدیقی اور نوید حسین خان شامل ہیں۔جج نے تنویر انصاری، محمد ماجد شفیع ، شیخ محمد علی عالم شیخ، محمد انصاری، مزمل شیخ، سہیل شیخ اور ضمیر کو عمر قید کی سزا سنائی تھی ۔اس کیس کی سماعت 9 سال تک عدالت میں ہوئی جس میں 250 گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے۔ان دھماکوں کو 2002میں گجرات فسادات کا رد عمل قرار دیا گیا تھا، گجرات میں ہونے والے ان فسادات میں 2000افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ممبئی ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ بھارت میں جاری مسلم مخالف ریاستی پالیسیوں کی ایک تاریخی شکست ہے،یہ فیصلہ ان لاکھوں مسلمانوں کے لیے امید کا بھی پیغام ہے جو بھارت میں روززانہ ریاستی جبر، پولیس گردی اور عدالتی تعصب کا شکار ہوتے ہیں۔







