بھارت:گزشتہ سال 50مسلمانوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، رپورٹ میں انکشاف
اسلام آباد:
بھارت میں ہندوتوا بھارتیہ جنتاپارٹی کے دور میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز کارروائیاں جاری ہیں اور گزشتہ ماورائے عدالت واقعات میں کم سے کم 50مسلمانوںکو قتل کیاگیاہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم ایڈوکیسی گروپ ساوتھ ایشیا جسٹس کمپین کی رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ ان میں 23مسلمانوںکو بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے ماورائے عدالت قتل کیا ۔ ایڈوکیسی گروپ ساوتھ ایشیا جسٹس کمپین بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام سے متعلق اعدادوشمار انڈیا پرسیکیوشن ٹریکر سے لیے ہیں، جو پولیس، بھارتی افواج اور غیر ریاستی عناصر سے متعلق واقعات کو دستاویزی شکل دیتا ہے۔ گروپ کے مطابق گزشتہ سال ریاستی اداروں سے متعلق واقعات میں ہلاک ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل تھے۔ٹریکر نے مزید دو ایسے واقعات بھی رپورٹ کیے ہیں جن میں مسلمانوں نے مبینہ طور پر ہندو انتہا پسند گروہوں کی جانب سے ہراسانی یا تشدد کے بعد خودکشی کی۔ اس کے علاوہ بنگالی بولنے والے مسلمانوں کی جبری گرفتاریوں، بے دخلی اور انخلاء کے واقعات بھی رپورٹ کئے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت میں مودی حکومت کے دورمیں ہندو انتہاپسندوں کی طرف سے مذہبی اقلیتوں خصوصامسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی وحشیانہ مظالم اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ عروج پر ہے ۔ آئے روز مسلمانوںکو ہندوتوا نعرے لگانے یا پبلک مقامات پر نماز ادا کرنے پر انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتاہے۔








