بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی امن کیلئے خطرہ ہے: احسن اقبال
اسلام آباد:
وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی خطے کے امن اور پاکستان کے آبی حقوق کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق احسن اقبال ے ٹاسک فورس برائے نیشنل واٹر سکیورٹی کے پہلے اجلاس کی صدار ت کرتے ہوئے وزارت آبی وسائل کے تحت ایک خصوصی ورکنگ گروپ قائم کرنے اور 15 دن کے اندر قابلِ عمل سفارشات پلاننگ کمیشن کو پیش کرنے کی ہدایت جاری کی۔ احسن اقبال نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے باعث پاکستان کو شدید اور طویل المدتی آبی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے، دریائوں کے بہائو میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال پاکستان کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے جبکہ پانی کا تحفظ ہی فوڈ سکیورٹی اور معاشی استحکام کی ضمانت ہے۔ انہوں نے کہا کہ واٹر سکیورٹی محض ایک شعبہ نہیں بلکہ ملکی بقا اور خودمختاری کی بنیاد ہے، ٹاسک فورس پاکستان کو درپیش آبی چیلنجز کے موثر حل تجویز کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ وفاقی وزیرنے کہاکہ پاکستان کا 80فیصد پانی دریائوں سے حاصل ہوتا ہے اور بڑھتی آبادی کے باعث ملک کو شدید آبی قلت کا سامنا ہے، اسی تناظر میں واٹر مینجمنٹ کے مالیاتی ماڈل کو اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔ احسن اقبال نے مزید کہا ہے کہ ملک میں نئے ڈیمز کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز پانی کے ذخائر میں اضافے کے لیے سنگِ میل ثابت ہوں گے، انہوں نے چیئرمین واپڈا، ارسا، نیشنل فلڈ کمیشن اور تمام صوبوں کو ہدایت کی کہ وہ ورکنگ گروپ کو اپنی ماہرانہ تجاویز فراہم کریں اور پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے واضح ٹائم ٹیبل مقرر کیا جائے۔اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہندوکش ہمالیہ ریجن میں 2011سے 2020کے دوران برف پگھلنے کی شرح میں 65فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، سیاچن گلیشیئر سالانہ 50سے 60میٹر تک پگھل رہا ہے جبکہ ہمالیہ کے پہاڑوں میں برف پگھلنے کی شرح 30میٹر سالانہ تک پہنچ چکی ہے۔ وفاقی وزیر نے پانی سے متعلق پالیسیوں کو عملی منصوبوں میں ڈھالنے کے لیے فوری طور پر ٹیکنیکل ورکشاپ بلانے کی ہدایت دی، ماحولیاتی تبدیلی کے باعث گلیشیئرز کے پگھلا میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور 1960 سے اب تک گلیشیئرز کی 23 فیصد برف پگھل کر ضائع ہو چکی ہے۔اجلاس میں وفاقی وزیر آبی وسائل میاں محمد معین وٹو نے بھی شرکت کی۔





