راجوری میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی 25ویں روز بھی جاری، معمولاتِ زندگی مفلوج

جموں: بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع راجوری میں بھارتی فوج اور پیراملٹری فورسز کی جانب سے جاری محاصرے اور تلاشی کی وسیع کارروائی آج مسلسل 25ویں روز بھی جاری رہی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 23 مئی سے ڈوری مال جنگلاتی علاقے، گمبھیر مغلاں میں ہزاروں فوجیوں، ہیلی کاپٹروں، ڈرونز، سوگھنے والے کتے ، پیرا کمانڈوز اور نام نہاد ولیج ڈیفنس گارڈز کی تعیناتی کے باوجود بھارتی فورسز کوئی نمایاں کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
بھارتی فورسز نے علاقے کا محاصرہ مزید سخت کرتے ہوئے جنگلاتی علاقے اور اس کے گرد و نواح میں تلاشی کی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، جس سے پورا علاقہ عملاً فوجی چھاؤنی اور جنگی زون کا منظر پیش کر رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق بار بار گھر گھر تلاشیوں، ناکہ بندیوں اور بھاری فوجی نقل و حرکت کے باعث مقامی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ علاقے کے باشندے مسلسل خوف، بے یقینی اور ذہنی دباؤ کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے جاری یہ فوجی آپریشن بھارت کی مزاحمت مخالف پالیسیوں کی ناکامی کو بے نقاب کرتا ہے اور اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی دہلی کشمیری عوام کے سیاسی مطالبات اور حقِ خودارادیت کی آواز کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال پر انحصار بڑھا رہی ہے۔




