مقبوضہ کشمیر: مسلسل خشک موسم کی کیوجہ سے ندی نالوں کی سطح خطرناک حد تک کم
موسمی عوارض نے سر اٹھانا شروع کر دیا

سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں گزشتہ ایک ماہ سے مسلسل خشک موسم کیوجہ سے ندی نالوں کی سطح خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مقبوضہ علاقے میں 5نومبر سے اب تک کوئی بارش یا برف باری ریکارڈ نہیں ہوئی جس کے باعث پورے علاقے میںبارش کی مجموعی کمی 86 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ ماہر موسمیات فیضان عارف کاکہنا ہے کہ یکم نومبر سے 9دسمبر تک جموںوکشمی میں اوسطاً 43.1ملی میٹر بارش متوقع تھی مگر اس عرصے میںصرف6.1ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جو معمول سے نہایت کم ہے۔ اس غیر معمولی خشک سالی نے نہ صرف موسمیاتی توازن کو متاثر کیا ہے بلکہ اسکے اثرات زمینی سطح پر ھی نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں ۔
انہوںنے بتایا کہ شدید خشک موسم نے دریائیوں اور جھیلوں کے بہاﺅ پر براہ راست اثر ڈالا ہے۔ سنگم کے مقام پر دریائے جہلم کی سطح 0.59فٹ تک گر گئی ہے، اگر چہ یہ تاریخی طور پر سب سے کم سطح نہیں مگر حالیہ برسوں میں ریکارڈ شدہ خطرناک حد تک کم ترین سطح ضرور ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موسم اسی طرح خشک رہا تو نہ صرف پانی کی قلت بڑھے گی بلکہ زرعی سرگرمیوں اور پینے کے پانی کی فراہمی پر بھی منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ خشک موسم ، سوکھی گھاس اور سطحی درجہ حرارت میں ضافے نے کشمیر کے کئی حصوں میں جنگلاتی آگ کے خطرے میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔مسلسل خشک موسم کے باعث وادی میں مختلف موسمی عوارض نے بھی سر اٹھانا شروع کر دیا ہے اور ناک ، گلے اور جلد کی خشکی ، الرجی ، دمہ ، آنکھوں کی جلن ، کھانسی اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ ریکاڈ کیا جا رہا ہے ۔KMS-04/M







