سوپور:کشمیری طالبہ کو ہراساں کئے جانے کیخلاف زبردست احتجاجی مظاہرے
قابض انتظامیہ نے تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں معطل کر دیں
سرینگر:
غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع بارہمولہ کے قصبے سوپورمیں ایک کشمیری طالبہ کی بے حرمتی کے خلاف مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے ہیں ۔ قابض حکام نے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول سوپور میں اردو کے سینئر لیکچرار کی طرف سے ایک طالبہ کی بے حرمتی کے خلاف ہزاروں طلبا نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے اور ملزم لیکچرار کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے سکول کی کھڑکیوں کے شیشے توڑ دئے ۔ قابض انتظامیہ نے زبردست احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول سوپور، بوائز ہائر سیکنڈری اسکول اور گورنمنٹ ڈگری کالج سوپور میں 15 سے 18 اپریل تک تدریسی سرگرمیاں معطل کردی ہیں ۔ ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کشمیر نے ملزم لکچرار کو معطل کر دیا ہے اور واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے ۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس مسلسل ملزم کی سرپرستی کررہی ہے ۔







