کشمیری خواتین بھارتی جبر کا نہایت استقامت و بہادری سے مقابلہ کر رہی ہیں ، حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ
میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہ کو برسی پر خراج عقیدت
اسلام آباد:کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ نے آج” عالمی یومِ خواتین” کے موقع پر بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر کی خواتین کی جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک تقریب کا انعقاد کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سینئر حریت رہنما محمد فاروق رحمانی کی زیر صدارت تقریب میں مقبوضہ علاقے کی خواتین کی بے مثال، لازوال اور تاریخی قربانیوں کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔تقریب میں حریت رہنماں، سیاسی و سماجی کارکنوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ صدر تقریب محمد فاروق رحمانی سمیت دیگرمقررین نے اس موقع پر کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی خواتین گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارتی ریاستی جبر، تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا بہادری اور استقامت کے ساتھ مقابلہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری خواتین نے نہ صرف تحریک آزادی کشمیر کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا بلکہ انہوں نے اپنے پیاروں کی شہادت، جبری گمشدگیوں، غیر قانونی گرفتاریوں اور مسلسل ہراسانی کے باوجود عزم و استقلال کی ایک درخشاں مثال قائم کی ہے۔مقررین نے اس گہری تشویش کا اظہار کیا کہ بھارتی قابض افواج نے کشمیری خواتین کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔ گھروں پر چھاپوں، دورانِ حراست تشدد، جنسی ہراسانی، اور بے بنیاد مقدمات کے ذریعے انہیں خوف و ہراس میں مبتلا رکھنے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔ متعدد کشمیری خواتین کے شوہر، بیٹے اور بھائی ماورائے عدالت قتل، جعلی مقابلوں اور جبری گمشدگیوں کا شکار ہوئے، جبکہ بہت سی خواتین برسوں سے اپنے پیاروں کی واپسی کی امید میں اذیت ناک انتظار کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔مقررین نے کہا کہ بھارتی حکومت کشمیری خواتین کے عزم و حوصلے کو کمزور کرنے کے لیے انہیں نشانہ بنا رہی ہے، لیکن تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کشمیری خواتین نے ہر مشکل گھڑی میں تحریک آزادی کشمیر کو مضبوط تر کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ وہ شہدا کی ماں، بیٹیوں اور بہنوں کی حیثیت سے نہ صرف حوصلے اور صبر کی علامت ہیں بلکہ حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کی مضبوط آواز بھی ہیں۔مقررین نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین کے خلاف جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں ۔تقریب میں محمد فاروق رحمانی کے علاوہ سینئر حریت رہنما محمود احمد ساغر ،میر طاہر مسعود ، سکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ ،راجہ محمد زرین رہنما جموں و کشمیر کشمیر کمیونٹی ،حسن البنا ،شیخ عبدالمتین ،سید اعجاز رحمانی ، محمد رفیق ڈار،نثار مرزا،جاوید جہانگیر ،امتیاز وانی،شیخ عبد الماجد ،ذاہد مشتاق ،نذیر احمد کرناہی,سید گلشن،محمد شفیع ڈار، منظور احمد ڈار،محمد اشرف ڈار ،عبد المجید میر , قاضی عمران ،امتیاز احمد بٹ،ریئس میر اور دیگر افراد نے شرکت کی ۔
دریں اثنا محمد فاروق رحمانی کی زیر صدارت حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے زیر اہتمام ایک دعائیہ مجلس کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں تحریک آزاد ی کشمیر کے عطیم رہنما ، ممتاز عالم دین اور سابق صدر آزاد جموں وکشمیر میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہ کو انکی برسی کے موقع پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ تقریب میں حریت رہنماں، اور میڈیا نے شرکت کی اور مرحوم رہنما کی دینی، سیاسی اور قومی خدمات کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہ ان عظیم رہنماں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی کشمیری عوام کے دینی، سیاسی اور قومی حقوق کے تحفظ اور آزادی کی جدوجہد کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے نہ صرف کشمیری عوام میں سیاسی شعور اور بیداری پیدا کی بلکہ ظلم و جبر کے خلاف منظم اور پرامن جدوجہد کی بنیاد بھی رکھی۔ مقررین نے کہا کہ میر واعظ یوسف شاہ کی قیادت اور بصیرت نے تحریک آزادی کشمیر کو ایک مضبوط نظریاتی اور سیاسی سمت فراہم کی۔ مقررین نے کہا کہ میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہ کی جدوجہد دراصل کشمیری عوام کے بنیادی انسانی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کی جدوجہد تھی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی موجودہ تحریک اسی عظیم مشن کا تسلسل ہے جس کی بنیاد میر واعظ یوسف شاہ اور دیگر بزرگ رہنماں نے رکھی تھی۔مقررین نے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مثر اور عملی اقدامات کریں اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی اور پیدائشی حق دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔تقریب کے اختتام پر میر واعظ مولانا محمد یوسف شاہ کے درجات کی بلندی، جنت نشینی اور کامل مغفرت کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔






