مقبوضہ جموں و کشمیر

بی جے پی کے پاس وحدت کشمیر کی بات کرنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،عمر عبداللہ

سری نگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نام نہاد وزیر اعلی عمر عبداللہ نے مودی سرکاری کی بی جے پی پر علاقے کو تقسیم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ لداخ کو دوبارہ جموں و کشمیر میں شامل کرنا ضروری ہے اور تقسیم کے بعد وحدت کی بات کرنے کا بی جے پی کو کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عمر عبداللہ نے یہ ردِعمل بی جے پی کے جنرل سیکرٹری ترون چْگھ کے اس بیان پر دیا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ بی جے پی ”مکمل طور پر متحدہ جموں و کشمیر”پر یقین رکھتی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا، یہ بات خوش آئند ہے کہ ترون چگھ اتحاد کا ذکر کر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تقسیم کا آغاز خود بی جے پی نے کیا۔ ہم ہمیشہ چاہتے رہے ہیں کہ جموں و کشمیر ایک واحد اکائی کے طور پر برقرار رہے۔ لداخ کو بی جے پی نے الگ کیا اور ہماری کوشش ہے کہ اسے دوبارہ جموں و کشمیر کے ساتھ شامل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو کبھی تقسیم نہیں ہونا چاہیے تھا اور علیحدگی کا بیانیہ نہ تو تاریخی لحاظ سے درست ہے اور نہ ہی جمہوری۔ عمر عبداللہ نے کہا، ہم نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ جموں و کشمیر کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ ہم جموں کو کشمیر سے الگ کرنے کے حق میں نہیں ہیں اور یہ بی جے پی اور کشمیر میں اس کے بعض اتحادی ہیں جو اس طرح کے بیانیے کو فروغ دیتے رہے ہیں۔
اس سے قبل ترون چْگھ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ بی جے پی مکمل طور پر متحد جموں و کشمیر کی حامی ہے۔
KMS-5/A

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button