ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت پر مقبوضہ جموں وکشمیر میں احتجاجی مظاہرے، ہزاروں افرادکی شرکت
سرینگر:ایران کے سرکاری میڈیا کی طرف سے ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی اوراسرائیلی حملوں میں شہادت کی تصدیق کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرے کئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر، بڈگام، پلوامہ، بارہمولہ، بانڈی پورہ اور شمالی اور جنوبی کشمیر کے دیگر قصبوں کے ساتھ ساتھ جموں اور لداخ خطے کے شہر کرگل سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔ مظاہرین نے خامنہ ای کی تصاویر اور سیاہ پرچم اٹھارکھے تھے اوروہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔سرینگر میں ہزاروں لوگ لال چوک کے گھنٹہ گھر پر جمع ہوئے جہاں وادی کشمیر کے مختلف علاقوںسے مظاہرین پہنچ رہے تھے۔ شہر کے وسط میں بڑی تعداد میں مظاہرین کے جمع ہونے پر ٹریفک کا رخ موڑ دیا گیا۔ بہت سے مظاہرین آہ و زاری کر رہے تھے اور اپنے سینے پیٹتے ہوئے خامنہ ای کو اپنا روحانی پیشوا قرار دے رہے تھے۔بڈگام اور کرگل میں بھی اہم اجتماعات دیکھنے میں آئے، جبکہ گلمرگ روڈ کے ساتھ ساتھ ماگام اور بانڈی پورہ کے علاقوں سرائے ڈانگر پورہ اور شادی پورہ میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔ منتظمین کا کہنا تھا کہ مظاہرے پرامن تھے اور ان کا مقصد ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنااور مشرق وسطیٰ میں صبروتحمل سے کام لینے کی اپیل کرنا تھا۔







