مقبوضہ جموں و کشمیر میں بی جے پی حکومت نے میرٹ کی دھجیاں بکھیر دیں
جے کے پی ایس سی نتائج میں کشمیری نوجوانوں کے ساتھ امتیازی سلوک بے نقاب
سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کی ہندوتوا حکومت نے مقبوضہ علاقے میں میرٹ کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مودی حکومت سرکاری ملازمتوں میں میرٹ کی سنگین پامالیوں کے ساتھ کشمیری نوجوانوں کو منظم انداز میں نظر انداز کر رہی ہے، جس سے جموں و کشمیر کے عوام میں بے چینی اور احساسِ محرومی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ 13 مارچ کو جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن کی جانب سے اعلان کردہ مقابلے کے مشترکہ امتحان(سی سی ای 2024) برائے جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس کے نتائج نے نام نہاد "میرٹ” کے دعوئوں کی قلعی کھول دی ہے۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ عمل غیر شفاف اور امتیازی بنیادوں پر مبنی ہے، جسے ناقدین "میرٹ اپارتھائیڈ” (اہلیت کی بنیاد پر تفریق)قرار دے رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق میڈیکل معائنے کے لیے منتخب کیے گئے 90 امیدواروں میں سے صرف 34 کا تعلق اوپن میرٹ کیٹیگری سے ہے، جبکہ یہ طبقہ مجموعی آبادی کا تقریبا 75 فیصد ہے۔ منتخب امیدواروں میں سے تقریبا 80فیصد کا تعلق ہندو اکثریتی جموں ڈویژن سے ہے، جبکہ مسلم اکثریتی کشمیر ڈویژن کی نمائندگی صرف 20 فیصد ہے۔ مجموعی طور پر 90 میں سے محض 17امیدواروں کا تعلق وادی کشمیر سے ہے، جو امتیازی رجحان کی واضح عکاسی کرتا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار سے امتحانی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں اور یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ اوپن میرٹ کے امیدواروں، بالخصوص وادی کشمیر کے نوجوانوں کے لیے کامیابی کے مواقع دانستہ طور پر محدود کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق مسابقتی امتحانات میں اس قسم کی مبینہ ہیرا پھیری کشمیری نوجوانوں کو روزگار سے محروم رکھنے اور انہیں معاشی دبا کا شکار بنانے کی ایک منظم کوشش ہے۔ ماہرین کے مطابق جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن کو "سیٹلر-کالونیل” (آبادکار نوآبادیاتی)انجینئرنگ کے لیے ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ اہم انتظامی عہدوں پر کشمیری نوجوانوں کے بجائے من پسند افراد کو تعینات کیا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ پالیسی نہ صرف میرٹ کے اصولوں کی نفی ہے بلکہ کشمیریوں کو اپنی ہی سرزمین پر دوسرے درجے کا شہری بنانے کے مترادف ہے۔انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں میرٹ، شفافیت اور بنیادی حقوق کی بحالی کے لیے کردار ادا کرے۔






